یہودیوں کی امدادی کشتی غزہ روانہ

غزہ کے لیے روانہ ہونے والی یہودی کشتی
Image caption غزہ کے لیے روانہ ہونے والی یہودی کشتی

یہودی امدادی کارکنوں کا ایک گروپ شمالی سائپرس سے ایک کشتی میں روانہ ہوا ہے جس کا مقصد غزہ کے اسرائیلی محاصرے کی خلاف ورزی کرنا ہے۔

اسرائیل، جرمنی ، اور برطانیہ کے ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلیوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو وہ مزاحمت نہیں کریں گے۔فلسطینیوں کے لیےانصاف کے نام سے برطانیہ میں سرگرم یہودی تنظیم کے رکن رچرڈ کیوپر کا کہنا تھا کہ یہ ایک علامتی احتجاج ہے جس کا مقصد ان فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے جو امن چاہتے ہیں۔

رچرڈ کیوپر کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد غزہ پہنچنا ہے لیکن ہم اسرائیلیوں کو کسی بھی طرح سے طاقت کے استعمال کا موقع نہیں دیں گے ۔ کارکنوں میں یہودیوں کی نسل کشی میں بچ جانے والے ایک 82 سالہ شخص ریوون موزکو وٹز بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’نسل کشی سے بچ جانے کے بعد یہ میرا فرض ہے کہ میں کسی بھی طرح کے ظلم کے خلاف احتجاج کروں‘۔

دس کارکنوں کے ساتھ یہ کشتی اتوار کو روانہ ہوئی ہے اور غزہ کے ساحل تک پہنچنے میں اسے 36 گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔

اس سال کے اوائل میں اسرائیلی کمانڈوز نے غزہ جانے کی کوشش کرنے والی ترکی کی ایک امدادی کشتی پر حملہ کرکے نو امدادی کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے بحری محاصرے کا مقصد علاقے میں حماس کو اسلحہ کی سمگلنگ روکنا ہے۔تاہم اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اینڈی ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اشتعال انگیز مذاق ہے۔