’عافیہ کو واپس لانے کے راستے ہیں‘

پاکستان کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے چھیاسی برس کی جو سزا سنائی ہے اس کے بعد ایسے قانونی راستے موجود ہیں جن پر عمل کرکے انہیں واپس پاکستان لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی پاکستان واپسی اسی صورت میں ممکن ہے جب ان کو ملنے والی عدالتی سزا معطل ہوجائے یا پھر اسے کالعدم قرار دے دیا جائے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی سزا کو ختم کروانے کے لیے یا تو عدالت میں اپیل کرنی پڑے گی یا پھر اس سزا کی معافی کے لیے امریکی صدر سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی کو معاف کردیں اور اس مقصد کے لیے رحم کی اپیل دائر کرنی پڑتی ہے اور بقول ان کے اپیل منظور ہونے کی صورت میں یہ معاملے ہی ختم ہوجائے گا اور عافیہ صدیقی آزاد شہری کی حیثیت سے پاکستان واپس آسکتی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے ماہر قانون احمر بلال صوفی نے کہا کہ اگر امریکی صدر کے روبرو سزا کی معافی کے لیے کوئی درخواست کی جاتی ہے تو یہ درخواست ڈاکٹر عافیہ یا پھر ان کے خاندان کے کسی رکن کو دائر کرنا ہوگی کیونکہ کیونکہ بقول ان کے حکومت پاکستان کو ایسی اپیل دائر کرنے کا استحقاق حاصل نہیں ہے جس میں خود فریق نہ ہو۔

انہوں نے بتایا کہ اگر ڈاکٹر عافیہ کی سزا معافی کے لیے امریکی کے سامنے کوئی درخواست دائر کی جاتی ہے تو اس صورت میں پاکستانی حکومت سفارتی ذرائع استعمال کرکے اس درخواست کی منظوری کے لیے کام کرسکتا ہے۔

احمربلال صوفی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا رحم کی اپیل کو امریکی صدر منظور کرتے ہیں یا اس ردکردیا جاتا ۔

قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سزا کے خلاف امریکی عدالت میں اپیل دائر کرسکتی ہیں اور اپیل میں ان خامیوں اور سقم کی نشاندہی کی جائے جو فیصلے میں موجود ہیں اور بیناد پر اپیل کی پیروی کی جائے۔

قانون دان بابر ستار کا کہنا ہے کہ دس روز کے اندر سزا کے خلاف امریکی عدالت میں دائر کی جاسکتی ہے تاہم اس اپیل میں کوئی نئی شہادت پیش نہیں جاسکتی کیونکہ بقول ان کے عدالت اپیل کی سماعت کے دوران یہ جائزہ لیتی ہے کہ ماتحت عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں کوئی سقم تونہیں ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ زیادہ اپیلوں میں مقدمہ کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا جاتا ہے یا پھر سزا کم کرنے ہدایات جاری کی جاتی ہیں تاہم بابرستار کے بقول عدالت فیصلے میں کسی غطلی کی بنا پر سزا کو حتم کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کو رہا کرسکتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد کرکے بھی عافیہ صدیقی کو پاکستان لایا تو جاسکتا ہے لیکن اس صورت میں انہیں پاکستان میں اپنی سزا کاٹنا ہوگی۔

بابر ستار کی رائے ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے لیے ان کی رضامندی ضروری ہے اور پاکستان میں انہیں اپنی سزا پوری کرنی ہوگی کیونکہ پاکستانی عدالت امریکی عدالت کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے کی مجاز نہیں ہیں۔ان کے بقول پاکستانی حکومت ڈاکٹر عافیہ کی سزا تو ختم نہیں کرسکتی ہے لیکن ان کے گھر کو ہی سب جیل قرار دیا جاسکتا ہے ۔

اسی بارے میں