شمالی کوریا: کم جونگ ان کے لیے اہم عہدے

کم جونگ ان
Image caption ستائیس سالہ کم جونگ ان نے سوئٹزرلینڈ میں تعلیم حاصل کی ہے

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال کے ستائیس سالہ بیٹے کو دو اہم عہدے سونپ دیے گئے ہیں اور اس اقدام کو اقتدار کی منتقلی کے عمل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ ان کو ورکرز پارٹی کے مرکزی فوجی کمیشن کا نائب سربراہ اور مرکزی کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل انہیں اپنی بہن کے ہمراہ شمالی کوریائی فوج میں جنرل کا عہدہ بھی دیا گیا ہے۔

گزشتہ تیس سال میں ورکرز پارٹی کے اس پہلے اجلاس میں کم جونگ ال کو ایک مرتبہ پھر رہنما منتخب کیا گیا ہے۔ وہ سنہ 1994 میں اپنے والد کِم اِل سونگ کے انتقال کے بعد شمالی کوریا کے رہنما بنے تھے۔

اڑسٹھ سالہ کم جونگ ال کی خراب صحت کے بارے میں کئی سالوں سے افواہیں پھیلتی رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان پر دو سال پہلے فالج کا دورا پڑا تھا جس کے علاج کے لیے وہ کئی مرتبہ چین جا چکےہیں۔

ان کے تین بیٹے ہیں اور جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے کم جونگ ان کے بارے میں اسے سے پہلے کبھی نہیں سنا گیا۔ ان کے بارے میں صرف یہ اطلاعات ہیں کہ انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں تعلیم حاصل کی اور ان کی عمر ستائیس سال ہے۔

جنوبی کوریائی دارالحکومت سیول میں موجود بی بی سی کے جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے مطلق العنان ریاست ہونے کے باوجود کم جونگ ان کی ترقی قابلِ ذکر ہے۔ ان کے مطابق اب اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ کم جونگ ان ہی اپنے والد کی جگہ شمالی کوریا میں اقتدار سنبھالیں گے۔

تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کی اہمیت تاحال واضح نہیں ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی کے مطابق ’میں یہی کہوں گا کہ شمالی کوریا میں سب سے بڑا ریئلیٹی شو سامنے آ رہا ہے اور ہم بغور اس کا جائزہ لے رہے ہیں‘۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ ہے جس کی وجہ پوری دنیا میں شمالی کوریا میں ہونے تبدیلی کے بارے میں ساری دنیا میں دلچسپی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں