لادن، سیلاب زدگان کیے لیے پھر اپیل

اسامہ بن لادن
Image caption اسامہ نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے دوسرا ٹیپ جاری کیا ہے

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن نے پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ایک بار پھر سے اپیل کی ہے۔

امریکی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق اس بارے میں ایک دوسرا آڈیو ٹیپ انٹرنیٹ پر لگایا گیا ہے۔

انٹلی جنس حکام کے مطابق یہ ٹیپ ’اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد کریں‘ کے نام سے آیا ہے۔ اس میں عرب ممالک کے مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان، ملیشیاء اور ترکی کے اپنے مسلم بھائیوں کی مدد کریں۔

ٹیپ میں کہا گیا ہے ’جس پیمانے پر تباہی آئی ہے اس مناسبت سے لوگوں نے مدد نہیں کی ہے‘۔ تاہم یہ آڈیو ٹیپ کس قدر سچ ہے اس کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسامہ بن لادن نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے جب کہ عرب کے کسی مسلم رہنماؤں نے ایسا نہیں کیا ہے۔

بیان کے مطابق ’عرب ممالک میں پائے جانے والے تیل پر تمام مسلمانوں کا حق ہے‘۔ یہ ٹیپ تیرہ منٹ کا ہے۔ بن لادن نے اس سے پہلے بھی پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ایک آڈیو پیغام کے ذریعے اپیل کی تھی۔

پہلا ٹیپ گیارہ منٹ کا تھا۔ اس تازہ ترین پیغام میں اسامہ نے دنیا میں آنے والی قدرتی آفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ افراد کی بھرپور مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔

پہلے آڈیو پیغام میں کہا گیا کہ جنگوں کی نسبت موسمی تبدیلیوں کے باعث بہت سے افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس پیغام کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسامہ کا اشارہ پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاری کی جانب تھا۔

امریکی انٹلیجنس ایجنسی میں کام کرنے والے ایک سابق افسر پاؤل پلر کا کہنا ہے کہ اسامہ کا یہ پیغام مسلمانوں میں اپنے بگڑتے تشخص کو درست کرنے کے لیے ہے۔

ان کے مطابق ان کا مقصد ’ان مسلمانوں میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو واپس پانا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسامہ ایک دہشت گرد ہے جو خود مسلمانوں کا خون بہا سکتا ہے‘۔

القاعدہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایک امدادی تنظیم قائم کی جائے جو ان مسلمان ممالک کے علاقوں پر تحقیق کرے جہاں سیلاب کا خطرہ ہے، غریب علاقوں میں ترقیاتی کام کیے جائیں اور غذائی تحفظ کے لیے زراعت کے شعبے میں کام کیا جائے۔

اسامہ بن لادن کی جانب سے جاری کیے جانے والا نیا آڈیو پیغام مارچ کے بعد پہلے جمعہ کو آیا تھا اور اس کے چوبیس گھنٹوں بعد یہ دوسرا پیغام آیا ہے۔

اسی بارے میں