افغانستان: آٹھ نجی سکیورٹی کمپنیوں پر پابندی

Image caption صدر کرزئی کے ترجمان کے مطابق آٹھ نجی سکیورٹی کمپنیوں کو بند کرنے اور ان کے ہتھیار واپس لینے کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔

افغانستان کی حکومت نے آٹھ نجی سکیورٹی کمپنیوں پر باقاعدہ طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔

صدر حامد کرزئی نے اگست میں پابندی کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس میں ان نجی سکیورٹی کمپنیوں کو افغانستان میں اپنا کام بند کرنے کے لیے چار ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔

صدر کرزئی نے گزشتہ برس اقتدار سنبھالنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں نجی سکیورٹی کمپنیوں کے کردار کو کم کریں گے۔

سب سے پہلے ان سکیورٹی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کے پاس عارضی اجازت نامے ہیں یا جو افغانستان میں غیر قانونی طور پر کام کر رہی ہیں یا جنہوں نے ماضی میں سکیورٹی کے معاملات کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

صدر کرزئی کے ترجمان وحید عمر نے کہا ہے کہ آٹھ نجی سکیورٹی کمپنیوں کو بند کرنے اور ان کے ہتھیار واپس لینے کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان زماری بشاری کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو اقوام متحدہ اور نیٹو افواج کی حمایت حاصل ہے۔

’ وزارت داخلہ اس منصوبے پر پوری سنجیدگی اور فیصلہ کن انداز سے عمل کر رہی ہے اور اب تک چار سو ہتھیار ضبط کیے جا چکے ہیں۔

زماری بشاری کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی اس طرح منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ ان سکیورٹی کمپنیوں کو بند کرنے کی وجہ سے ملک میں سکیورٹی کا کوئی خلا نہ پیدا ہو۔

ان نجی سکیورٹی کمپنیوں کے ملازمین کو اجازت ہو گی کہ وہ افغان فوج میں شامل ہو سکتے ہیں۔

افغانستان میں اس وقت باون سکیورٹی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں غیر ملکی اور مقامی کمپنیاں شامل ہیں۔

اسی بارے میں