فاٹا، اکثریت امریکی آپریشن کے خلاف

Image caption سروے رپورٹ کے مطابق اناسی فیصد قبائلی باشندوں کی خواہش ہے کہ فاٹا کا انتظام پاکستانی فوج کے حوالے کر دیا جانا چاہیے

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں نوے فیصد لوگ اپنی سرزمین پر القاعدہ اور طالبان کے خلاف امریکی کارروائی کے مخالف ہیں جبکہ ستر فیصد قبائلی باشندے ان شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن کے حق میں ہیں۔

واشنگٹن میں قائم امریکی تھنک ٹینک نیو امریکہ اور ٹیرر فری ٹومارو کے زیر انتظام ہونے والے ایک مشترکہ سروے کے مطابق پاکستان کی ساتوں قبائلی ایجنسیوں میں امریکہ مخالف جذبات بہت زیادہ ہیں۔

یہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں ہونے والا پہلا جامع سروے ہیں۔ اس سروے کے سلسلے میں تیس جون سے بیس جولائی تک فاٹا کے ایک سو بیس دیہات میں ایک ہزار بالغ افراد سے بالمشافہ بات چیت کر کے ان کی رائے معلوم کی گئی۔ اس سروے کے لیے سرمایہ امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس نے فراہم کیا ہے۔

سروے کے مطابق فاٹا کے ساٹھ فیصد لوگ امریکی فوج کے خلاف خودکش حملوں کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ پاکستانی فوج اور پولیس کے خلاف خود کش حملوں کو جائز قرار دینے والے قبائلی باشندوں کی شرح صرف دس فیصد ہے۔

سروے رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں خود کش حملے کرنے والے بیشتر بمباروں کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہوتا ہے۔

سروے کے مطابق فاٹا کے تین چوتھائی باشندے قبائلی علاقے میں ڈرون حملوں کے خلاف ہیں۔ ان میں سے صرف سولہ فیصد یہ سمجھتے ہیں کہ ان حملوں میں صرف شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسری طرف اڑتالیس فیصد لوگوں کے خیال میں عام شہری ان حملوں کا نشانہ بنتے ہیں جبکہ تینتیس فیصد لوگ سمجھتے ہیں حملوں میں شدت پسند اور عام شہری دونوں نشانہ بنتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق براک اوباما کے عہدے صدارت سنبھالنے کے بعد فاٹا میں ایک سو بائیس سے زائد مقامات پر ڈرون حملے ہوئے ہیں جو سابق امریکی صدر جارج بش کے آٹھ سالہ دورِ صدارت میں ہونے والے ڈرون حملے سے دوگنا ہے۔ سروے کے مطابق فاٹا کے تراسی فیصد باشندوں کے لیے امریکی صدر براک اوباما ایک ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔

سروے کے مطابق فاٹا کے تین چوتھائی باشندے القاعدہ کی اپنے علاقے میں موجودگی کے خلاف ہیں جبکہ دو تہائی لوگ پاکستانی طالبان کی علاقے میں موجودگی کے خلاف ہیں۔

Image caption فاٹا کے تراسی فیصد باشندوں کے لیے امریکی صدر براک اوباما ایک ناپسندیدہ شخصیت ہیں

سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں الیکشن کرائے جائیں تو ایک فیصد سے بھی کم لوگ القاعدہ یا پاکستانی طالبان کی حمایت کریں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی کارروائی اور ڈرون حملوں کو پاکستان میں پائے جانے والے عام امریکہ مخالف جذبات سے نہیں جوڑا جا سکتا کیونکہ انہیں قبائلیوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ اگر فاٹا کے لیے امریکی ویزوں میں اضافہ کر دیا جائے، طالبعلموں کو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف دیئے جائیں، امریکی فوج افغانستان سے واپس چلی جائے یا امریکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین امن قائم کرا دے تو امریکہ کے بارے میں ان کی رائے بڑی حد تک تبدیل ہو جائے گی۔ فاٹا کے دو تہائی باشندوں کے مطابق تعلیم اور طبی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلے میں امریکی امداد سے عوامی رائے تبدیل ہو سکتی ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق اناسی فیصد قبائلی باشندوں کی خواہش ہے کہ فاٹا کا انتظام پاکستانی فوج کے حوالے کر دیا جانا چاہیے جبکہ ستر فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ اسے ایک علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے۔

اسی بارے میں