حریری قتل:’تینتیس افراد کے وارنٹ جاری‘

شام نے ایسے تینتیس افراد کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں جن پر الزام ہے کہ انھوں نے اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ تحقیقاتی ٹیم کو لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری کے قتل سے متعلق گمراہ کیا تھا۔ان تینتیس افراد میں کچھ بین الاقوامی اہلکار ہیں جبکہ کچھ کا تعلق لبنان سے ہے۔

جن افراد کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے ہیں ان میں جرمنی کے سرکاری وکیل اور لبنان میں پولیس کے سربراہ اشرف ریفی بھی شامل ہیں۔

بیروت میں دمشق کے اس اقدام کو لبنان پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش سمجھا جا رہا تاکہ اس ٹرائبیونل کو ترک کر دیا جائے جس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ حزب اللہ کے کچھ اراکین پر الزام عائد کرنے والا ہے۔

شام کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے عہد کیا ہے کہ اگر اس کے اراکین پر کسی طرح کی فردِ جرم عائد ہوئی تو وہ جوابی کارروائی کرے گی۔

تاہم گزشتہ ماہ ایک حیران کن پیشرفت میں لبنان کے موجودہ وزیرِ اعظم سعد حریری نے کہا تھا کہ انھوں نے اور ان کے کچھ ساتھیوں نے رفیق حریری کے قتل سے متعلق جو الزام لگائے تھے ان کی نوعیت سیاسی تھی اور ان سے علیحدگی اختیار کر لی گئی ہے۔

تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کا کہنا ہے کہ یہ اعلان شام اور شام کے کچھ حلیفوں کے ساتھ لبنان کی کشیدگی کم کرنے میں ناکافی ثابت ہوا ہے۔

شام نےلبنان کے سکیورٹی کے محکمے کے سابق سربراہ میجر جنرل جمیل سید کے خلاف جاری مقدمے میں بقول ان کے وکیل کے، اتوار کو یہ فیصلہ کیا کہ کچھ افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں۔

جنرل سید شام کے طرف دار ان چار افسران میں شامل ہیں جنھیں دو ہزار پانچ میں رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں ناکافی ثبوت کی بنیاد پر سنہ دو ہزار نو میں رہا کر دیا گیا تھا۔

سنہ دو ہزار نو میں انھوں نے دمشق میں کئی افراد کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا تھا جو بقول ان کے جھوٹی گواہیوں کی سازش میں شامل تھے۔

انھوں نے دمشق میں یہ مقدمہ اس لیے دائر کیا تھا کیوں کہ اس بارے میں انھوں نے کئی بار لبنان میں مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہوئی۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ شام کے جج نے ریاستی سمن نظر انداز ہونے کے بعد یہ وارنٹ جاری کیے۔

لبنان میں پولیس کے سربراہ نے گرفتاری کے وارنٹ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ ’ہم ان پر عمل درآمد روکنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ان سے لبنان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں