پیرس: جعلساز بینک تاجر کو سزا

Image caption پیرس میں ایک عدالت نے ایک بڑے مالی گھپلے کے خالق کرویل کو تین برس قید کی سزا سنائی ہے

پیرس کی عدالت نے بینک ’سوسیئتے جنرال ‘ کے سابقہ تاجر جیروم کرویل کو تین برس قید کی سزا سنائی ہے۔ ان پر جعل سازی کرنے، کمپوٹر کے ناجائز استعمال اور اعتماد کو زک پہنچانے جیسے الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔

جیروم کر ویل کو تین برس جیل کی سزا کے علاوہ چار ارب یورز سے زیادہ کی ادائیگی کرنی ہوگی جس کے بارے میں بینک کا کہنا ہے ان کے نا قابل بھروسہ اور سٹے باز کاروبار کے باعث بینک کو جو نقصان اٹھانا پڑا ہے، کرویل کو وہ نقصان پورا کرنا ہوگا۔

کرویل کے وکلاء نے کہا ہے کہ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائےگی اور اپیل کے فیصلے تک جیروم کرویل آزاد رہیں گے۔

جعلساز تاجر کو ابتدا میں پانچ برس کی سزا سنائی گئی تھی تاہم دو برس کی سزا معطل کردی گئی۔

مقدمے کی سماعت کی ابتدا میں کرویل پر الزام تھا کہ انھوں نے بینک کی پیشگی اجازت کے بغیر پچاس ارب یورز خرچ کرڈالے۔

کرویل کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ بینک کو بخوبی اندازہ تھا کہ کرویل کے کارو بار میں پیسہ داؤ پر لگا ہوتا ہے اور یہ پر خطر ہوتا ہے تاہم جبتک بینک منافع کمارہا تھا، بینک نے اس کی نوعیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

وکیل نے کہا کہ کرویل اس فیصلے پر برہمی کا اظہار اور قابل نفرین قرار دیا۔ وکیل کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بینک اس جرم کا ذمے دار ہے اور نہ ہی اُس ملازم کا ، جو اُس نے خود تیار کیے اور جو بینک کے لیے کام کرتا تھا۔

Image caption امریکہ کا لہم بنیک جس میں فراڈ عالی کساد بازاری کا سبب بنا

مقدمے میں کرویل کے کئی سابقہ افسران اور ساتھیوں نے ان کے خلاف گواہی دی۔ جبکہ بینک کے وکیل کا کہنا تھا کہ جس وقت کرویل کے فیصلوں سے بینک کو نقصانات ہورہے تھے، کرویل اپنے افسران کو یہ یقین دلاتے رہے کہ کچھ برا نہیں ہورہا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس مقدمے سے فرانس کے ایک معروف مالی ادارے کی ساکھ کو دھچکہ لگا ہے، تاہم کیونکہ اس کے نقصانات کی نوعیت چند ارب یورز سے زّیادہ نہیں، اس لیے مارکیٹ میں وہ ہلچل نہیں مچی جو چند ماہ قبل امریکہ میں ’لیہم بینک‘ کے انہدام کے بعد پیدا ہوئی ، جس کے بعد عالمی کساد بازاری نے زور پکڑا اور عالمی معیشت مندے کا شکار ہوگئی تھی۔

اسی بارے میں