پاکستان پر امریکہ کو شدید تشویش

پاک افغان سرحد(فائل فوٹو)
Image caption فوج متاثرہ علاقوں میں استحکام پیدا کرنے کے لیے اقدامات یا تو کر نہیں سکتی یا کرنا نہیں چاہتی

امریکہ نے پاکستان کی افغانستان کی سرحد کے قریب بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے نمٹنے کی صلاحیت اور آمادگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے صدر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مقبولیت کھو رہے ہیں۔

امریکہ میں افغانستان کی لڑائی کے بارے میں سال میں دو بار جاری ہونے والی رپورٹ کی تازہ اشاعت میں گمان ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کی شدت پسندی سے نمٹنے میں ’ہچکچاہٹ‘ وسائل کمی کے ساتھ ساتھ اس کی فکر کا بھی نتیجہ ہے۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس برس پاکستان میں آنے والا سیلاب بھی حکام کے لیے بڑا در سر بنا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فوج سڑکوں سے دور نہیں جاتی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوج شاہراہوں کے قریب رہ کر شدت پسندوں کو تو نقصان پہنچاتی ہے لیکن اس کے بعد ان علاقوں میں استحکام پیدا کرنے کے لیے اقدامات نہیں کرتی۔

رپورٹ میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ اگست میں سیلاب کے دنوں میں یورپ کے دورے پر روانہ ہو گئے تھے جس سے نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اور سول اور فوج اداروں کے درمیان تناؤ پیدا ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سال کے دوران پاکستان میں سول حکومت کی ساکھ تیزی سے متاثر ہوئی ہے جبکہ فوج پر اعتماد بڑھا ہے۔