یمن: برطانوی سفارتخانے کی گاڑی پر حملہ

یمن
Image caption اس سے قبل یمن میں برطانوی سفارتکار پر حملہ ہوا تھا

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں برطانوی سفارتخانے کی گاڑی پر گرینیڈ حملہ ہوا ہے جس میں سفارتخانے کا ایک ملازمی زخمی ہوا ہے۔

خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق ایک علیحدہ واقعہ میں ایک سیکورٹی گارڈ نے آسٹریلیا کی گیس فرم او ایم وی کے گراؤنڈ میں گولی چلائی ہے جس میں ایک فرینچ کانٹریکٹر ہلاک ہوگیا ہے اور ایک برطانوی کانٹریکٹر زخمی ہوا ہے۔

ایک بیان میں او ایم وی نے کہا ہے کہ جو فرینچ کانٹریکٹر ہلاک ہوئے ہیں وہ کمپنی کے لیے پروکیورمنٹ افسر کی حیثیت سے کام کررہے تھے اور جو برطانوی کانٹریکٹر زخمی ہوئے وہ کمپنی کی برانچ میں ایک ایکسپرٹ کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ انکا علاج جاری ہے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد نظر نہیں آتا۔

برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی سفارتخانے کی گاڑی پر ہونے والے حملے میں سفارتخانے کے ایک ملازم کو معمولی چوٹ آئی ہے جبکہ کار کے پاس کھڑے تین افراد کو بھی چوٹ آئی ہے۔

جس گاڑی پر حملہ ہوا اس میں یمن میں برطانوی مشن کے ڈپٹی چیف سوار تھے۔

برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ' گاڑی برطانوی سفارتخانے کی طرف جارہی تھی اور اس میں سفارتخانے کے پانچ ملازمین سوار تھے'۔

برطانوی خارجہ سیکریٹری ولیم ہیگ نے حملے کو ' شرمناک' واقعہ بتایا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا ' آج صبح جو حملہ ہوا ہے اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ برطانوی سفارتکار ملک سے باہر برطانیہ کے مشن کو انجام دینے کے لیے کنتا خطرہ مول لیتے ہیں'۔

برطانوی سفارتخانے کی گاڑی پر حملے کے بعد برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری ولیم ہیگ نے بی بی سی کے بتایا ہے کہ تمام سفارتکاروں کو گھر یا سفارتخانے میں رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

برطانوی سفارتخانے پر یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دو دن پہلے ہی یمن کی حکومت نے سفارتخانوں کے ارد گرد سیکورٹی میں اضافہ کیا تھا کیونکہ اس طرح کی اطلاعات تھیں کہ القاعدہ حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں ميں یمن میں مغربی ممالک کے افراد پر کئی حملے ہوئے ہیں۔

اس برس اپریل کے مہینے میں ایک خود کش حملہ آور نے ایک برطانوی سفیر کے قافلے پر حملہ کیا تھا۔

اس حملے میں تین راہ گیر افراد زخمی ہوئے تھے اور پولیس کی ایک گاڑی تباہ ہوگئی تھی۔

القاعدہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اسی بارے میں