برقعہ کے خلاف قانون منظور

فرانس میں نقاب پوش خاتون(فائل فوٹو)
Image caption فرانس میں ایک اندازے کے مطابق صرف دو ہزار خواتین برقعہ پہنتی ہیں

فرانس کی آئینی عدالت نے عوامی مقامات پر برقعہ پہننے پر ڈھائی سو ڈالر جرمانے کی منظوری دے دی ہے۔

آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ پابندی عبادت گاہوں اور دوسرے مذہبی مقامات پر لاگو نہیں ہو گی۔

فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ برقعہ خواتین کے ساتھ زیادتی ہے اور فرانسیسی اقدار ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ جبکہ اس قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ برقعے پر پابندی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

فرانس میں منظور کیے جانے والے اس قانون پر اگلے سال بہار کے موقم سے اطلاق شروع ہو جائے گا۔ فرانس میں عوامی سطح پر اس قانون کو بھرپور حمایت حاصل ہے۔ تاہم اس کے مخالفین بتاتے ہیں کہ ملک میں ایسی خواتین کی تعداد بہت کم ہے جو برقعہ پہنتی ہیں۔

قانون کے تحت خواتین کو برقعہ پہننے پر مجبور کرنے والوں کو تیس ہزار یورو جرمانے کے علاوہ ایک قید کی سزا بھی سنائی جائے گی۔

فرانس میں برقعے پہننے کے خلاف منظور کیے جانے والے اس قانون کے خلاف آخری اپیل یورپی انسانی حقوق کی عدالت میں دائر کی جا سکتی ہے جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔

قانون کے تحت اس میں سزا سے پہلے چھ ماہ کا عرصہ رکھا گیا ہے جس میں برقعہ پہننے والی خواتین کو بتایا جائے گا کہ اگر وہ عوامی مقامات پر برقعے پہنتی رہیں گی تو انہیں جرمانے اور سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فرانس میں ایک اندازے کے مطابق صرف دو ہزار خواتین برقعہ پہنتی ہیں۔ ہسپانیہ اور بیلجیم میں بھی اس طرح کا قانون نافذ کرنے کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں