آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 اکتوبر 2010 ,‭ 10:01 GMT 15:01 PST

نوبل انعام دینے پر چین کی تنقید

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

چین نے منحرف رہنما لیو شاؤبو کو سنہ دو ہزار دس کا امن کا نوبل انعام دینے پر کمیٹی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

چین نے ناروے کے سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کرکے اُن سے اِس فیصلے پر احتجاج کیا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ لیو شاؤبو ایک مجرم ہیں اور ایک مجرم کو امن کا نوبل انعام دے کرنوبل کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کی وجہ سے ناروے اور چین کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے ایک بیان میں چین سے لیو شاؤبو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نےگزشتہ تیس برس کے دوران اقتصادی میدان میں نمایاں ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے معیارِ زندگی کو بھی بلند کیا ہے تاہم یہ اعزاز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ چین میں سیاسی اصلاحات نافذ نہیں کی جا سکیں اور ہر آدمی، عورت اور بچے کے بنیادی حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

چین نےگزشتہ تیس برس کے دوران اقتصادی میدان میں نمایاں ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے معیارِ زندگی کو بھی بلند کیا ہے تاہم یہ اعزاز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ چین میں سیاسی اصلاحات نافذ نہیں کی جا سکیں اور ہر آدمی، عورت اور بچے کے بنیادی حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

امریکی صدر باراک اوبامہ

امریکہ کے علاوہ دوسرے مغربی ممالک نے بھی چین سے لیو شاؤبو کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لیو شاؤبو کو گزشتہ برس ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے جرم میں گیارہ سال کی قید سنائی گئی تھی۔ مغربی حلقوں نے اس سزا کی مذمت کی تھی۔

لیو پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک دستاویز لکھی تھی جس میں سیاسی اصلاحات کی بات کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ چین کی وزارتِ خارجہ نے نوبل کمیٹی کو تنبیہہ کی تھی کہ لیو کو انعام نہ دیا جائے۔ چین کے مطابق یہ نوبل کے اصولوں کے مترادف ہے۔

ناروے کی نوبل کمیٹی نے اوسلو میں اپنے فیصلے میں کہا کہ لیوکی سزا چین کے اپنے آئین اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

کمیٹی نے لیو شاؤبو کی طویل اور پر امن جدوجہد کی تعریف کی اور انہیں چین میں انسانی حقوق کی وسیع کوششوں کی علامت قرار دیا۔

دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ضاؤاکس کا کہنا ہے کہ لیو ایک مجرم ہیں جنہوں نے ملک کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مجرم کو امن کا نوبل انعام دے کرنوبل کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور اُس سے نوبل کے امن کے انعام کی توہین ہوئی ہے۔

واضح رہےکہ اس سال جن لوگوں کے نام امن کے نوبل انعام کے لیے لیے جا رہے تھے ان میں افغانستان کی عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن سما ثمر، روس کی انسانی حقوق کی کارکن سوتلانا گانوشکینا، جرمنی کے سابق چانسلر ہیلمٹ کوہل، اور زمبابوے کے وزیرِ اعظم مارگن سوانگیری شامل ہیں۔

ناروے حکومت کی ترجمان کا کہنا ہے کہ چین نے ناروے کے سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کیا اور اُن سے اِس فیصلے پر احتجاج کیا

نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ لیو کو امن کا نوبل انعام دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں انسانی حققوق کے حوالے سے اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔

جرمن حکومت کے ترجمان نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لیو کو رہا کر دے تاکہ وہ نوبل انعام کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کر سکیں۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ برناڈ کوچر نے بھی چین سے لیو شاؤبو کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لیو شاؤبو کی بیوی نے نوبل امن کمیٹی کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے چین سے اپنے خاوند کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہےکہ اس سال جن لوگوں کے نام امن کے نوبل انعام کے لیے لیے جا رہے تھے ان میں افغانستان کی عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن سما ثمر، روس کی انسانی حقوق کی کارکن سوتلانا گانوشکینا، جرمنی کے سابق چانسلر ہیلمٹ کوہل، اور زمبابوے کے وزیرِ اعظم مارگن سوانگیری شامل ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔