سکیورٹی افغان فوج کے حوالے جلد کرنے پر زور

اٹلی نے افغانستان میں غیرملکی فوجوں کی ذمہ داری افغان فوج کے حوالے کرنے کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

اٹلی کے وزیرِ خارجہ فرانکو فراٹینی نے کہا ہے کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ نیٹو کی ذمہ داریاں اب جلد از جلد افغان فوج کے حوالے کردینی چاہیے۔ یہ بات انہوں نے افغانستان میں نیٹو افواج میں شامل اٹلی کے چار فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کہی۔

فرانکو فراٹینی نے کہا کہ انہیں اٹلی کے فوجیوں کی ہلاکت پر انتہائی افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان فوجیوں کی موت اِس بات کا ثبوت ہے کہ اٹلی افغانستان میں امن کے قیام کے لیے کتنی بڑی قیمت ادا کررہا ہے۔

اٹلی کے چار فوجی مغربی افغانستان میں ایک مشن سے واپسی پر اُس وقت ہلاک ہوئے جب شدت پسندوں نے ان کے قافلے پر حملہ کردیا۔ اس حملے میں نیٹو کا ایک اور فوجی زخمی ہوا تھا۔

افغانستان میں اٹلی کے تین ہزار چار سو فوجی تعینات ہیں اور یہ تعداد اس سال کے آخر تک چار ہزار تک کردی جائے گی۔

اٹلی کے وزیراعظم سِلویو برلسکونی کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوجیوں کی موت کی خبر بہت دکھ کے ساتھ سنی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان فوجیوں کے بہت شکرگذار ہیں جو دنیا کے مختلف علاقوں میں کئی مشن پر کام کررہے ہیں۔ ہمارے یہ فوجی، امن کے قیام اور دہشت گردی کی ہر قسم کی مخالفت میں عالمی برادری کے عزم میں اٹلی کی جانب سے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

اٹلی کے کھیلوں کے حکام نے کہا ہے کہ تمام کھیلوں کے مقابلوں میں اپنے فوجیوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔

چار فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں گذشتہ چھ برس میں اٹلی کے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد چونتیس ہوگئی ہے۔ جن میں سے اکیس فوجی گذشتہ دو برس میں ہلاک ہوئے ہیں۔

افغانستان میں نیٹو افواج کے چوبیس فوجی رواں ماہ ہلاک ہوچکے ہیں۔ جبکہ سنہ دوہزار ایک سے اب تک ہلاک ہونے والے نیٹو فوجیوں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

اسی بارے میں