’کثیر الثقافتی معاشرے کی کوششیں ناکام‘

Image caption ہم اپنے کو دھوکہ دیتے رہے کہ تارکین وطن یہاں نہیں رہیں گے اور یہاں سے چلے جائیں گے: جرمن چانسلر

جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ جرمنی کو ایک کثیر الثقافتی معاشرہ بنانے کی تمام کوشش ناکام ہو گئی ہیں۔ جرمن چانسلر نے پوٹسڈیم میں کرسچیین ڈیموکریٹ پارٹی کے نوجوان ممبران سے خطاب کرتے کرتے ہوئے کہا کہ کثیر الثقافتی معاشرے کا نام نہاد نظریہ جس کے مطابق تمام ثقافتوں کے لوگ ہنسی خوشی رہیں گے، ناکام ہو چکا ہے۔

جرمن چانسلر کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جرمنی کے سیاستدانوں نے جرمنی میں بسنے والے تارکینِ وطن کے خلاف سخت الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق تیس فیصد جرمن شہریوں کا خیال ہے کہ غیر ملکیوں نے جرمنی پر دھاوا بول دیا ہے۔جرمن تھینک ٹینک فریڈرک ایبرٹ فاؤنڈیشن کے ایک سروے میں تقریباً اتنی ہی تعداد میں لوگ سمجھتے ہیں کہ جرمنی کی سولہ ملین تارکین نے صرف سماجی فوائد کے لیے جرمنی میں رہائش پذیر ہیں۔

اینگلا مرکل نے کہا ساٹھ کی دہائی کے شروع میں جرمنی نے دوسرے ملکوں سے ورکروں کو بلایا اور وہ ہمارے ملک میں رہتے ہیں۔’ ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے رہے کہ یہ لوگ یہاں نہیں ٹھہریں گے اور کچھ عرصے بعد چلے جائیں گے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔‘

جرمن چانسلر نے جرمن صدر کرسچیئن ولف کے اس بیان کو دہراتے ہوئے کہا کہ عیسائیب اور یہودیت کی طرف اسلام بھی جرمنی کا حصہ بن چکا ہے۔

اینگلا مرکل نے کہا جرمنی میں رہنے والے تارکین وطن کو معاشرے میں ضم ہونے کے لیے مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔ ’ہمیں ایک ایسا ملک نہیں ہونا چاہیے جس کے بارے میں بیرونی دنیا میں یہ تاثر پایا جاتا ہو کہ جو لوگ یہاں آ کر جرمن نہیں بولنا شروع کر دیتے یا یہاں جرمن بولتے ہوئے پلے بڑھے نہیں ہیں ان کو خوش آمدید نہیں کہا جا سکتا۔‘

اسی بارے میں