یہودی ریاست تسلیم کر لیں، اسرائیل کی پیشکش

نیتن یاہو
Image caption اسرائیل پر غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی میں توسیع کے لیے بین الاقومی دباؤ ہے

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے پیشکش کی ہے کہ اگر فلسطینی اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کر لیں تو اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی میں توسیع کر دے گا۔

تاہم ایک فلسطینی ترجمان نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

فلسطینیوں کا موقف ہے کہ وہ پہلے ہی اسرائیل کو ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر چکے ہیں اور غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر ہی وہ معاملہ ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

ماضی میں فلسطینیوں کا یہ موقف رہا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کر لیں تو اس سے اسرائیل میں رہنے والے ان بیس فیصد لوگوں کی حق تلفی ہو گی جو یہودی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ان فلسطینی پناہ گزینوں کا یہ حق بھی ختم ہو جائے گا کہ وہ اسرائیل واپس جا سکیں۔

اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی میں توسیع سے انکار کے بعد فلسطینیوں نے امریکی حمایت سے ہونے والے ان مذاکرات کو جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔

اسرائیل کو غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی میں توسیع کے لیے ان دنوں بین الاقومی دباؤ کا سامنا ہے۔

ان بستیوں کی تعمیر کی وجہ سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات ختم ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی میں توسیع نہیں کی تو وہ تعطل کے شکار ان مذاکرت کو بالکل ختم کر دیں گے۔

اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر دس ماہ کی عارضی پابندی ستمبر میں ختم ہو گئی تھی جس کے بعد اسرائیل نے اس کی توسیع سے انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں