بھوکوں کی تعداد میں معمولی کمی

Image caption رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا اور آٹھ سب صحارن ملکوں میں بھوک کی شرح میں اضافہ ہوا ہے

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں اب بھی ایک ارب کے قریب لوگوں کے پاس پیٹ بھر کے کھانے کے لیے خوراک نہیں ہے۔

دو ہزار دس کے گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق بچوں میں خوراک کی کمی عالمی سطع پر غذائی بحران کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غذائی بحران کا شکار ہونے والوں میں سے نصف کے قریب تعداد بچوں کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سب صحارن‘ افریقہ اور جنوبی ایشیا میں بھوک کا شکار ہونے والوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں دنیا بھر میں حکومتوں سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ بھوک کے مسئلے سے عہدہ برآ ہونے کے لیے بچوں میں خوراک کی کمی کے مسئلے کو حل کرے۔

گلوبل ہنگر انڈیکس کو ہر سال انٹرنیشنل فُوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ویلٹھنگرہلف اور کنسرن ورلڈوائیڈ کے زیر اہتمام شائع کیا جاتا ہے۔

عالمی ادارہِ خوراک کے مطابق اگر کسی شخص کو ہر روز اٹھارہ سو کلو کیلوریز نہیں ملتیں تو اسے خوارک کی کمی کا شکار سمجھا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق سن انیس سو نوے اور سن دو ہزار چھ کے دوران بھوک کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی کے باوجود حالیہ سالوں میں یہ تعداد پھر بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔

سن دو ہزار میں یہ تعداد ایک ارب سے زیادہ تھی جو اس سال کم ہو کر ساڑھے بانوے کروڑ ہو گئی ہے۔

اس ریسرچ کے لیے ایک سو بائیس ترقی پذیر ملکوں اور پسماندہ ملکوں میں کام کیا گیا۔

سب صحارن افریقہ اور جنوبی ایشیا کے انتیس ملک ایسے ہیں جہاں بھوک کی سطع کو ’انتہائی خوفناک‘ یا ’خوفناک‘ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا اور آٹھ سب صحارن ملکوں میں بھوک کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ڈیموکریٹک ری پبلک آف کونگو میں اس کے بڑھنے کی شرح پینسٹھ فیصد رہی ہے۔

اسی بارے میں