کان کنوں کو باہر کیسے لایا جائے گا

(تفصیلات کے لیے اوپر دیے گئے ہندسوں یا تصویر میں دکھائے گئے نمبروں پر کلک کریں)

1: تیاری:

ریسکیو ٹیم میں چلی کی نیشنل کاپر کارپوریشن کے دس اہلکار، کانوں سے متعلق ریسکیو کے دو مقامی ماہرین اور چلی کی بحریہ کے تین ڈاکٹر شامل ہیں۔

کان کنوں کو نکالنے کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں ہیں لیکن کان کنوں کو باہر نکالنے سے قبل اس کیپسول کو جس کے ذریعے کان کنوں کو اوپر لایا جانا ہے کئی مرتبہ ٹیسٹ کیا جائے گا۔ پہلے کیپسول کو نیچے خالی بھیجا جائے گا، اس کے بعد اس میں وزن رکھا جائے گا اور پھر کسی شخص کو اس میں نیچے بھیجا جائے گا۔

طبی امداد مہیا کرنے والے ایک کارکن کو نیچے بھیجا جائے گا جو کان کنوں کا معائنہ کر کے انہیں تین گروہوں میں تقسیم کرے گا۔ یہ گروہ تکنیکی مہارت، ذہنی اور جسمانی صحت کے حساب سے بنائے جائیں گے۔

امدادی کارکن کان کنوں کو ایک ترتیب سے اوپر لانا چاہتے ہیں۔

واپس اوپر

2: ریسکیو:

کان کنوں کو کیپسول کے ذریعے باہر لانے سے پہلے دھوپ سے بچانے والا چشمہ اور ایک خاص قسم کا بہت ہی ہلکا اور پانی سے بچانے والا لباس پہنایا جائے گا۔ انہیں ایک بایو میٹرک بیلٹ بھی پہنائی جائے گی تاکہ انہیں باہر لاتے وقت ان کی صحت کو مانیٹر کیا جا سکے۔

کاکنوں کو ایک چھوٹا آکسیجن ماسک پہنایا جائے گا، اور ہیڈ فون اور مائکروفون بھی دیا جائے گا تاکہ وہ سطح پر موجود امدادی ٹیم کے ارکان سے مسلسل رابطے میں رہ سکیں۔

اگر کیپسول سطح پر آتے ہوئے کہیں پھنس گیا تو اس صورت میں اس کے اندر موجود شخص چند بیرم کھینچنے سے واپس کان کی نچلی سطح پر پہنچ جائے گا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کان کنوں کو سکون پہنچانے والی دوا نہیں دی جائے گی تاکہ وہ امدادی ٹیم کے ساتھ رابطے میں رہ سکیں۔

واپس اوپر

3: ٹرائی ایج ایریا

سطح پر پہنچ کر کان کنوں کو ایک ‘ٹرائی ایج ایریا’ میں لے جایا جائے گا جو کہ کیپسول کے نزدیک ہی ایک چھوٹے سے کنٹینر میں قائم کیا گیا ہے۔ اس ایریا میں ڈاکٹر کسی سنگین بیماری کے خدشے کے پیش نظر ان کا معائنہ کریں گے۔

ٹرائی ایج ایریا سے ان کو پچاس میٹر دور فیلڈ ہسپتال لے جایا جائے گا جہاں انہیں اپنے خاندان کے کسی ایک یا دو افراد سے دو منٹ کی ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔

کان پر تین ہیلی کاپٹر موجود ہیں اور کسی ایمرجنسی کی صورت میں انہیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے سب سے قریب کوپیاپو کے ہسپتال لے جایا جائے گا۔

واپس اوپر

4: فیلڈ ہسپتال:

کان کن تقریباً دو گھنٹے فیلڈ ہسپتال میں گزاریں گے۔

کان کنوں کو اس وقت سب سے زیادہ جلد کی بیماریوں کا سامنا ہے۔ اتنے ماہ سورج کی روشنی کے بغیر گزارنے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ڈاکٹر انہیں وٹامن ڈی دیں گے اور ضرورت پڑی تو ڈرپ لگائیں گے۔

ان کے دانتوں کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔ اور فیلڈ ہسپتال میں ان کو نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی مدد مہیا کی جائے گی۔

ٹرائی ایج ایریا، فیلڈ ہسپتال اور آرام گاہ جہاں کان کن اپنے خاندان کے افراد سے ملیں گے، چونتیس کنٹینروں پر مشتمل ہے۔

واپس اوپر

5: خاندان کے ساتھ

فیلڈ ہسپتال میں مکمل معائنہ کے بعد کان کنوں کو آرام گاہ میں جانے کی اجازت ہوگی جہاں وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ وقت گزار سکیں گے۔

خاندان کے صرف ایک یا دو افراد کو ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔

یونیورسٹی کالج لندن سے تعلق رکھنے والے نفسیاتی ماہر ڈاکٹر جیمز تھامسن کا کہنا ہے کہ لمبے عرصے کی قید سے واپس آنے والے افراد کے لیے بہت سے لوگوں سے ایک ہی وقت پر ملنے کے مقابلے میں ایک وقت پر چند قریبی افراد سے ملنا آسان ہوتا ہے۔

واپس اوپر

6: ہسپتال:

فیملی سے ملنے کے بعد کان کنوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے چالیس کلومیٹر دور کاپیاپو کی ملٹری بیس پر لے جایا جائے گا جوکہ مقامی ہسپتال کے قریب ہے۔

یہاں پر ڈاکٹر انہیں اڑتالیس گھنٹوں کے لیے رکھیں گے۔ اڑتالیس گھنٹے بعد اگر یہ سمجھا گیا کہ وہ صحت مند ہیں تو وہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ جا سکیں گے۔ اس کے بعد اگر کان کن چاہیں تو وہ نفسیاتی مدد حاصل کرنا جاری رکھ سکتے ہیں۔

واپس اوپر