نیو یارک: دھماکہ خیز مواد برآمد

نیو یارک پولیس (فائل فوٹو)
Image caption نیو یارک پولیس کے مطابق سی۔فور کے ٹکڑوں کے ساتھ کوئی اگنائٹر نہیں تھا

نیویارک پولیس نے شہر کے ایک تاریخی قبرستان سے انتہائی دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے جو ایک سال سے قبرستان میں پڑا ہوا تھا۔

نیویارک پولیس کے بم ڈسپوزل سکواڈ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اتوار کے روز انہیں اطلاع ملی کہ نیویارک شہر کے علاقے مینہیٹن کے مشرقی حصے میں واقع تاریخی قبرستان میں ایک کالے رنگ کی تھیلی موجود ہے جس میں فوجی استعمال کا سی۔فور قسم کا انتہائي دھماکہ خیز اور تباہ کن مواد موجود ہے۔

نیو یارک سے بی بی سی کے نامہ نگار حسن مجتبیٰ نے بتایا ہے کہ پولیس کے بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق نیویارک کے ’ماربل سمیٹری‘ قبرستان سے برآمد ہونے والا یہ سی۔فور دھماکہ خيز مواد ٹی این ٹی سے زیادہ طاقتور پلاسٹک ایکسپلوسیو کہلاتا ہے جو آٹھ دھماکہ خیز اینٹوں پر مشتمل تھا لیکن انہیں چلانے یا پھوڑنے والا اِگنائٹر موجود نہیں تھا۔

مینہیٹن کے مشرقی حصے میں واقع ’ماربل سمیٹری‘ میں کام کرنے والے ایک رضاکار نے بتایا کہ برآمد ہونے والے دھماکہ خيز مواد کی ہر اینٹ پر لفظ ’ایکسپلوسیو‘ کندہ تھا اور وہ سمجھے کہ شاید قبرستان کے سیٹ پر کسی فلم کی تیاری کرنے والے کسی فلم یونٹ نے یہ تھیلی وہاں چھوڑ دی ہے۔

قبرستان میں کام کرنے والے رضا کاروں کے حوالے سے مقامی میڈیا نے بتایا ہے کہ وہ تھیلی میں موجود مواد کو نقلی بم سمجھے تھے لیکن انکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ اصلی ثابت ہونگے۔

پولیس ایسے دھماکہ خیز مواد کے تباہ کن ہونے کے تفصیلات پر خاموش ہے لیکن نیویارک میں مقامی میڈیا کے ایک حصے کا دعوی ہے کہ اتوار کے روز نیویارک کے قبرستان سے برآمد ہونے والا ایسا دھماکہ خيز مواد لندن میں دو ہزار پانچ میں ہونے والے بم حملوں میں ہونے والی تباہی کے پیمانے جنتا ہی خطرناک ہوسکتا تھا، اپنی اس طرح کے دعوے کے ذرا‏‏ئع نہیں بتائے۔

نیویارک کے انتہائي متمول لوگوں کے اس قبرستان میں روز ویلٹ خاندان کے چھ افراد کے علاوہ نیویارک کے سابق میئر سٹیؤن ایلن اور ایک سابق گورنر دفن ہیں۔ انٹرنیٹ پر قبرستان کی ویب سائٹ کے مطابق، انیس سو ساٹھ میں تاريخی اہیمت کا حامل قرار دیے جانے والے اس قبرستان کو ’خوبصورتی اور سکون کا ہیرا‘ کہا جاتا ہے۔

نیویارک کے مقامی پرنٹ میڈیا کے ایک حصے کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے کالے رنگ کا تھیلا قبرستان میں کام کرنے والے مالی کو گزشتہ خزاں میں جھاڑ پھونس صاف کرتے ہاتھ آیا تھا جس سے اسے وہیں چھوڑ دیا تھا۔ تاہم گزشتہ اتوار کو مارک نامی ایک شخص کو یہ تھیلی ہاتھ آئی جسے پہلے تو اسے کوڑے کرکٹ کے ڈبے میں پھینکنے کا سوچا لیکن پھر ایسا ارادہ ترک کر کے پولیس کو اطلاع کردی۔

اسی بارے میں