سابق گوانتنامو قیدی کے خلاف مقدمہ شرع

احمد خلفان غیلانی
Image caption احمد خلفان غیلانی کو دوہزار چار میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا

عدالت میں سرکاری وکیل نے گوانتنامو کے سابق قیدی احمد خلفان غیلانی پر القاعدہ کے ساتھ ملکر امریکی شہریوں کو ہلاک کرنے کے کی سازش کرنے جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔

احمد غیلانی گوانتنامو کے پہلے قیدی ہیں جن پر سویلین عدالت میں مقدمہ شروع کیا گیا ہے۔

ان پر تنزانیہ میں امریکی سفارت خانے کے حملہ میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور سرکاری وکیل نے عدالت کے سامنے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ سنہ انیس سو اٹھانوئے میں درالسلام میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے لیے احمد خلفان غیلانی نے ٹرک اور گیس ٹینک خریدا تھا۔

سرکاری وکیل نکولس لیون نے کہا '' دفاع کرنے والے نے یہ سب اس لیے کیا کیونکہ وہ القاعدہ کے اس مشن کے تیئں وفادار تھے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ امریکی شہریوں کو ہلاک کرنا ہے۔''

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس بارے میں سابق القاعدہ رکن کی گواہی بھی پیش کریں گے جو اپنے گناہوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔

مسٹر لیون کا کہنا تھاکہ احمد غیلانی پاکستان فرار ہو گئے تھے '' انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا کہ ایک روز امریکہ کے کمرہ عدالت میں انہیں ان سب گواہیوں کا سامنا کرنا پڑیگا۔''

لیکن احمد غیلانی کے وکیل سٹیو زیسوؤ نے اپنے موکل کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے اپنے دستوں کے جو بھی لین دین کیا وہ ایک تاجر کی حیثیت سے کیا تھا اور وہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ شدت پسند ہیں۔

مسٹر زیسوؤ نے عدالت کو بتایا کہ احمد غیلانی کبھی القاعدہ کے تربیتی کیمپ نہیں گئے اور نا ہی وہ اس کے نظریات سے واقف کرائے گئے۔ '' وہ نا تو القاعدہ کے رکن ہیں اور نا ہی القاعدہ کے مقاصد سے وابستہ رہے۔''

گوانتنامو کے قیدیوں میں سے احمد خلفان غیلانی کے مقدے کی سماعت شروع ہوئی ہے اور اوبامہ انتظامیہ دیگر ہائی پروفائل قیدیوں کی بھی انہیں عدالتوں میں سماعت کرانے کے حق میں ہے۔

اس میں گیارہ ستمبر کے روز ٹوئن ٹاورز پر حملے کے اہم ملزم خالد شیخ محمد بھی شامل ہیں۔ احمد خلفان غیلانی کو دو ہزار چار میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد سی آئی انہیں ایک خفیہ مقام لے گئی جہاں ان سے پو چھ گچھ کی گئی۔ انہیں دو ہزار چھ میں گوانتانامو میں قید کیا گیا تھا۔ پو چھ گچھ کے لیے انہیں ٹارچر بھی کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں