ایرانی صدر اسرائیل لبنان کی سرحد پر

احمدی نژاد
Image caption بیروت میں احمدی نژاد کا استقبال

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کے لبنان کے سرکاری دورے کے دوسرے دن وہ اسرائیلی سرحد کے قریب جا رہے ہیں جس پر اسرائیل نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

اسرائیل کے علاوہ امریکہ اور بعض لبنانیوں نے ان کے پروگرام کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

ایرانی صدر بنت نامی قصبے کا دورہ کر رہے ہیں جو اسرائیلی سرحد سے صرف چند کلومیٹر دور ہے اور جو حزب اللہ کا گڑھ ہے۔ سنہ 2006 کی جنگ میں یہ اسرائیلی بمباری کا نشانہ بھی بنا تھا۔ بنت کی تعمیر نو کا بیشتر خرچہ ایران نے اٹھایا تھا۔

حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو ایرانی صدر کا پُر جوش استقبال کریں۔

بدھ کو صدر احمدی نژاد کی لبنان آمد پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا تھا جس کا اہتمام حزب اللہ نے کیا تھا۔

بیروت کے ہوائی اڈے سے صدارتی محل کے راستے پر ایرانی صدر کے قافلے کے استقبال کے لیے لوگوں نے ان پر پھول اور چاول پھینکے۔

اس موقع پر صدر احمدی نژاد نے ’ دنیا کے مظالم کے خلاف ثابت قدم رہنے پر‘ لبنان کی تعریف کی اور کہا کہ ایران نے ایک مضبوط اور متحد لبنان کی حمایت کی ہے۔

دوہزار چھ میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ سے جو گاؤن تباہ ہو گئے تھے ان کی تعمیر نو کے لیے ایران نے بڑی رقوم دی تھیں۔

لبنانی صدر میشیل سلیمان کے پاس کھڑے ہو کر احمدی نژاد نے کہا ’ہم نے مضبوط اور متحد لبنان کی حمایت کی ہے۔ ہم ہمیشہ لبنان کی حکومت اور قوم کے حامی رہیں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران اسرائیل کی کسی بھی جارحیت سے مقابلے کے لیے بیروت کی مدد کرے گا۔ ’ہم لبنانی قوم کے خلاف کی گئی مشکلات کے لیے مدد کریں گے، خاص طور پر یہودی حکومت کی طرف سے کھڑی کی گئی مشکلات کے لیے۔‘

چونکہ ایران حزب اللہ کا حامی ہے اس لیے بہت سے لبنانیوں کو اس دورے کے بارے میں تحفضات ہیں۔ اسرائیل سے حزب اللہ کی لڑائی میں بارہ سو لبنانی شہری اور تقریباً ایک سو ساٹھ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جو کوسووو کے دورے پر ہیں ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ایسی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے جس سے لبنان میں عدم استحکام یا کشیدگی پیدا ہو۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا ’ہم امید کرتے ہیں کوئی بھی دورہ کرنے والا نہ ایسا کہےگا اور نہ کرے گا جس سے لبنان میں کشیدگی یا عدم استحکام پیدا ہو۔‘

لبنانی پارلیمان کے وہ ارکان جنہیں مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے، اس دورے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر احمدی نژاد ایران کے لیے لبنان کو ایک اڈہ بنانا چاہتے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی علاقے میں کشیدگی بر قرار ہے۔ اگست میں اس علاقے میں بعض لبنانی فوجی، ایک صحافی اور ایک سینیئر اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں