چین: اقصادی ترقی کے اہداف پر غور

کیمونسٹ پارٹی لیڈرز فائل فوٹو
Image caption چین کے صدر ہوجن تاؤ اور وزیرِ اعظم وین جیا باؤ بھی اس میٹنگ میں شرکت کریں گے

چین کی حکمران جماعت کیمونسٹ پارٹی بیجنگ میں منعقد ہونے والے سالانہ اجلاس میں اقتصادی ترقی کے پانچ سالہ منصوبے پر غور کرے گی۔

چین نے حالیہ برسوں میں اقتصادی میدان میں نمایاں ترقی کی ہے تاہم یہ ترقی اُس کی ایکسپورٹس کی وجہ سے ہے۔

چین کی خواہش ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے امیر اور غریب کے فاصلے کو ختم کیا جائے۔

چینی حکام کے مطابق ایسا کرنا اِس لیے اہم ہے کیونکہ ماضی میں تنخواہوں میں اضافے کے لیے کی جانے والے ہڑتالوں کی وجہ سے ملک میں افراتفری پیدا ہو گئی تھی۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والی کسی بھی غیریقینی صورتحال پر کیمونسٹ پارٹی کو تشویش لاحق ہوتی ہے کیونکہ ایسا ہونے سے اس کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ چین میں انسانی حقوق، خارجہ تعلقات اور بین الاقوامی معاشی صورتحال کیمونسٹ پارٹی کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔

چین کی حکومت ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری لا کر غریب لوگوں کی زندگی میں بہتری لانے کے اقدامات اٹھانے کے بارے میں سوچ بچار کر رہی ہے۔

اِس حوالے سے بیجنگ میں ہونے والی کیمونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے تین سو ممبران اگلے پانچ سالہ منصوبے پر غور کریں گے۔

چین کے صدر ہوجن تاؤ اور وزیرِ اعظم وین جیا باؤ بھی اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔

چین میں یہ افواہ بھی گردش کر رہی ہے کہ گزشتہ ہفتے امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والے منحرف رہنما لیو شاؤبو کے پولیٹکل ریفامز کے حوالے سے دیے جانے والے بیان پر بھی میٹنگ میں بات ہو گی۔

لیو شاؤبو کو گزشتہ برس ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے جرم میں گیارہ سال کی قید سنائی گئی تھی۔ مغربی حلقوں نے اس سزا کی مذمت کی تھی۔

لیو پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک دستاویز لکھی تھی جس میں سیاسی اصلاحات کی بات کی گئی تھی۔

واضح رہےکہ گزشتہ ہفتے چین کی کیمونسٹ پارٹی کے تیئس سینئر رہنماؤں نے ایک خط کے ذریعے ملک میں آزادئ اظہار پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر زور دیا تھا۔

اسی بارے میں