چین: کوئلے کی کان میں دھماکہ، بیس ہلاک

کوئلے کی کان، فائل فوٹو
Image caption چین میں کوئلے کی صنعت دنیا میں سب سے خطرناک تصور کی جاتی ہے

وسطی چین میں کوئلے کی ایک کان میں دھماکے کے نتیجے میں بیس کان کن ہلاک اور سترہ پھنس گئے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ہینن صوبے میں کوئلے کی ایک کان میں ’اچانک کوئلے اور گیس سے دھماکہ ہو گیا۔‘

سرکاری نیوز ایجنسی زنہوا کے مطابق یہ دھماکہ سنیچر کو علی الصبح یوزہو پٹ میں ہوا۔

چین کی حفاظتی اقدامات کے متعلق سرکاری ایجنسی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد دو سو انتالیس کان باہر نلکنے میں کامیاب ہو گئے جب کہ بیس کان کن مردہ پائے گئے اور سترہ لاپتہ ہیں۔

ایک چینی اہلکار لی نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کان میں پھنسے ہوئے کان کن کتنی گہرائی میں ہیں۔

چین میں توانائی کی ضروریات کو ستر فیصد کوئلے سے پورا کیا جاتا ہے۔

چین میں کوئلے کی صنعت دنیا میں سب سے خطرناک تصور کی جاتی ہے، جہاں صرف گزشتہ سال کان کے حادثوں میں چھبیس سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

چین میں حفاظتی اقدامات کے تحت رواں سال ایک ہزار سے زائد چھوٹی اور غیر قانونی کانوں کا بند کیا گیا ہے۔

چین میں حکومت کوئلے کی پچیس ہزار کانوں میں حفاظتی معیار کو بہت کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اس وجہ سے کان کے حادثوں میں ہونے والی ہلاکتوں میں کمی آئی ہے۔

دو ہزار دو میں یہ ہلاکتیں سات ہزار تھیں جو گزشتہ سال کم ہو کر چھبیس سو اکتیس رہ گئی ہیں۔

اسی بارے میں