طالبان کے لیے نیٹو کا ’محفوظ راستہ‘

Image caption طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں:پیٹریاس

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس کے مطابق نیٹو نے کم از کم ایک طالبان کمانڈر کو کابل میں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا ہے۔

افغانستان میں بین الاقوامی فورسز کے کمانڈر نے لندن میں کہا اس اقدام کا مقصد افغان صدر حامد کرزئی کی مزاحمت کاروں سے روابط استوار کرنے کی حمایت کرنا تھا۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیامِ امن کی ان چھوٹی چھوٹی کوششوں کے باوجود افغانستان کی اصل تصویر ملک میں تیزی سے بڑھتی مزاحمت کی ہے۔

افغانستان کو اس وقت 2001 ء کے امریکی و اتحادی حملے کے بعد سے اب تک کے سب سے خونریز سال کا سامنا ہے۔

ایک دفاعی’تھنک ٹینک‘ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ میں اپنے خطاب کے دوران جنرل پیٹرئیس نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’درحقیقت ہم انہیں کچھ معاملات میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ کسی طالبان کمانڈر کے لیے افغانستان میں داخل ہونا اور کابل تک پہنچ جانا آسان نہیں اگر ایساف اس بات کی اجازت نہ دے یا اسے اس کی خبر نہ ہو‘۔

انہوں نے بتایا کہ متعدد سینئر طالبان رہنماؤں نے افغان حکومت اور افغانستان میں سرگرم دیگر ممالک کے ساتھ ابتدائی بات چیت کے لیے رابطہ کیا تھا۔

اسی اثناء میں حفاظتی معاملات پر نظر رکھنے والے ایک گروپ نے جمعہ کو کہا ہے کہ افغانستان میں سرگرم امدادی تنظیموں کو طالبان کے ساتھ کام کرنا چاہیے کیونکہ ملک کے مستقبل میں ان کا ایک مستقل کردار ہوگا۔

آن سو کا کہنا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کا کردار کم ہو رہا ہے اور افغانستان کے مستقبل میں طالبان کا مستقل اور مسلسل سیاسی کردار یقینی ہے۔ گروپ کے ڈائریکٹر نک لی کا کہنا ہے کہ ’ہماری تجویز ہے کہ غیر سرکاری تنظیمیں ان سے کترانے کی بجائے انہیں اپنے ساتھ شامل کرنے کی حکمت عملی شروع کریں‘۔

جمعرات کے روز طالبان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ صدر کرزئی کی طرف سے ان کے ساتھ خفیہ مذاکرات کے دعوے غلط تھے۔ افغان صدر نے گزشتہ ماہ ایک ستّر رکنی اعلٰی امن کونسل تشکیل دی ہے جس کا مقصد طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے کوششیں کرنا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کو گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران مختلف سطحوں پر افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کی ہے لیکن اصل چیلنج اس بات چیت کو تعمیری شکل دینا ہے۔

اسی بارے میں