چلی کے ’سلیبریٹی‘ کان کن

Image caption چلی میں ایک ریسکیو آپریشن کے ذریعے تقریباً ایک میل زمین کے اندر پھنسے ہوئے تینتیس کان کن باہر نکالے گئے

چلی کی سان جوز کان میں اڑسٹھ دن تک پھنسے رہنے والے کان کنوں کو باہر نکالے جانے کی کارروائی دیکھنے کے لیے میں بھی دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کی طرح رات گئے ٹی وی سے جُڑا بیٹھا رہا اور اگلے دن کئی مصروفیات ہونے کے باوجود اپنے آپ کو سونے پر آمادہ نہ کرسکا۔

جب پہلے کانکن، فلورینسیو ایوالوس باہر آئے تو میرے ذہن میں اِس دو ماہ سے زیادہ طویل اور کئی لحاظ سے کٹھن امدادی مشن میں پیش آنے والی مشکلات کے بجائے یہ سوالات گردش کر رہے تھے کہ سات سو میٹر کی گہرائی سے، جو قریب نصف میل کے برابر ہے، ایک پتلے سے پائپ کے اندر ایک تنگ سے کیپسول میں شروع ہونے والے سفر پر فلورینسیو نے کیا محسوس کیا ہوگا؟

تاریکی، سیلن اور گھٹن کے ماحول میں اڑسٹھ دن گزارنے کے بعد دوبارہ کھلے آسمان تلے تازہ ہوا میں سانس لینے کی بیتابی کے باوجود کان میں بتیس ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور پچاسی فیصد نمی سے چند منٹوں کے بعد منجمد کردینے والی ریگستان کی رات کو فلورینسیو کے جسم نے کیسا پایا ہوگا؟

اور چھ سو میٹر سے زیادہ تک امدادی کیپسول کے لوہے کے پہیوں کی سخت گرینائٹ پر چلنے کی گڑگڑاتی آواز اِس عمودی سفر کے آخری چون میٹر میں لوہے کی ‘لائیننگ‘ شروع ہونے پر کیسے تبدیل ہوئی ہوگی؟ وغیرہ وغیرہ۔

لیکن دماغ میں گردش کرنے والا سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اِس طرح کے حادثے تو دنیا بھر، خاص طور پر چین، میں تو آئے دن پیش آتے رہتے ہیں تو آخر چلی کے کان کن پوری دنیا کی توجہ کا مرکز کیوں بنے؟

اِس سوال کے ممکنہ جوابات میں اب تک اخبارات و جرائد کے ان گنت صفحات کالے اور الیکٹرونک میڈیا کے سینکڑوں گھنٹے صرف ہوچکے ہیں اور آئندہ چند ہفتوں تک اِس رجحان میں کسی کمی کی امید بھی نہیں۔

کچھ لوگوں نے کہا کہ کان کنوں کو نکالنے کی تقریباً بائیس گھنٹوں پرمحیط کارروائی اپنی نوعیت کا ایک ایسا پہلا عالمی ریالٹی شو تھا جس میں نہ صرف موقع پر موجود دو ممالک کے صدور نے حصہ لیا بلکہ ٹیلی فون کے زریعےصدر اباما اور وزیر اعظم کیمرون سمیت کئی عالمی شخصیات بھی شامل رہیں۔

یعنی کان کن کو بحفاظت نکالنے کا مشن ایک ایسا ریالٹی شو بن گیا جس کا انیس سو ستانوے میں پیش کیے جانے والے ہالینڈ کے جان ڈی مول کے ریالٹی ٹی وی شو ’بگ برادر‘ سے موازنہ کرنا ایسا ہی ہوگا جیسے کہ کسی خاموش بلیک اینڈ وائٹ فلم کا مقابلہ جیمز کیمرون کی تازہ فلم ’اوتار‘ سے کیا جائے!

اِس انداِز فکر کی بازگشت میکسیکو کے کالم نویس گیبرییالا وارکینٹائین کے اِن الفاظ میں بھی سنائی دیتی ہے کہ ’چلی کے کان کنوں کو بچانے کی کارروائی ایک عالمی ریالٹی شو میں تبدیل ہوگئی ہے اور یہ کہ ہم ایک تماش بین سماج ہیں۔‘

کچھ لوگ شاید یہ بھی کہیں کہ چلی کے کان کنوں کو نکالنے کے مشن کی عالمی مقبولیت کی وجہ قریب ایک دہائی پر محیط وہ یاسیت تھی جس کے فطری ردعمل میں دنیا کے لوگ کسی اچھی خبر کو سننے کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔

اور کیوں نہ کرتے؟

خاص طور ایک ایسی اچھی خبر کا جس میں شروع سے لے کر آخر تک اُن تمام بنیادی انسانی اطوار اور خصوصیات کی جھلک نظر آرہی ہو جن کی کمی اِس وقت دنیا کو درپیش تمام بڑے مسائیل کی بظاہر ایک بڑی وجہ نظر آتی ہے۔

مثال کے طور پر، چند ساہوکاروں کی لالچ کی وجہ سے بپا ہونے والا عالمی مالیاتی بحران، قدرتی ماحول میں ابتری اور عالمی حدت میں اضافے کے پیچھے چند بڑی معاشی طاقتوں کی کئی دہائیوں سے جاری خود غرضی، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے شواہد نہ ہونے کے باوجود عراق پر چڑھائی کا فیصلہ، افغانستان میں جاری جنگ، غزہ کی ناکہ بندی اور پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے نتیجے میں آئے دن ہونے والے پر تشدد واقعات۔ یہ فہرست خاصی طویل ہوسکتی ہے۔

مندرجہ بالا مثالوں کی جزیات اور ’ذمہ دار کون ہے‘ جیسے سوالات پر تو اختلاف رائے ممکن ہے لیکن شاید اِس بات پر کوئی اختلاف نہ کرے کہ اِن مثالوں میں قدر مشترک کسی فرد، گروہ یا قوم کی تنگ نظری، خودغرضی یا لالچ جیسے منفی انسانی رویے ہیں۔

اگست کی پانچ تاریخ کو نصف میل کی گہرائی پر ایک کان میں چٹان گرنے کے واقعے سے شروع ہونے والی چلی کے کان کنوں کی کہانی میں ہمیں وہ تمام مثبت انسانی رویے واضع طور پر نظر آتے ہیں جن میں خاصی تیزی سے ہوتی کمی پر دنیا کے کم و بیش تمام بڑے سماجوں کے صاحب نظر طبقے گزشتہ کئی دہائیوں سے خاصے تواتر کے ساتھ واویلہ مچاتے نظر آئے ہیں۔

جہاں شفٹ انچارج، لوئز اورزوا کے سب سے آخر میں نکلنے کے فیصلے سے اُن کے کردار کی مضبوطی کا اظہار ہوا تو وہاں اُنہوں نے حادثے کے بعد بیرونی دنیا سے سترہ اگست کو رابطہ قائم ہونے سے پہلے کے انتہائی غیر یقینی تیرہ دنوں میں اپنے بتیس ساتھیوں میں نظم و ضبط اور اُن کے حوصلے بلند رکھتے ہوئے اپنے اوپر دوسروں کو فوقیت دینے کی انسانی خصوصیت کی ایک بہترین مثال پیش کی۔

بات صرف تینتیس کان کنوں کے مضبوط اعصاب پر ہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ جس طرح چلی کی حکومت اور زمہ دار اہلکاروں نے امدادی مشن تخلیق کیا اور بعد میں جس انداز میں اُس کی بظاہر انتہائی معمولی و غیر اہم جزیات پر بھرپور توجہ مرکوز رکھی، اُس کی مثال صرف ناسا کے خلائی پروگراموں میں ہی ملنا ممکن ہے۔

یہ بات قابل بحث ہے کہ عام لوگوں کے لیے سلیبرٹی یا مشہور شخصیات کے سحر میں مبتلا ہونے کے پیچھے شاید مشہور شخصیات کی کامیابی، دولت، شہرت اور خوبصورتی ہوتی ہے جس کی ایک عام آدمی تمنا کرتا ہے۔

جبکہ جنوبی امریکہ کے ایک نسبتًاغریب ملک کے کان کنوں اور ان کو بچانے کا بیڑا اٹھانے والی ان کی حکومت کا پوری دنیا کی نظر میں پیدا ہونے والا یہ نیا ’سلیبرٹی سٹیٹس‘ شاید گزشتہ ستر دنوں کے دوران ان بنیادی انسانی جذبات اور اِقدار کے واضع اظہار کی وجہ سے ہے جن کی کمی کئی وجوہات کی وجہ سے اِس وقت دنیا کے بیشتر لوگ اجتماعی طور پر محسوس کر رہے ہیں۔

میری سوچ کا دھارا شاید اور آگے تک بہتا کہ کان کن، ڈینئیل ہریرا کے نکلنے کا وقت آن پہنچا۔

کئی ہزار میل کی دوری، وقت میں چار گھنٹوں کے فرق اور زبان و ثقافت مختلف ہونے کے باوجود مجھے یہ محسوس کرنے میں زرہ برابر دقت نہ ہوئی کہ پہلے کئی کان کنوں کو اُگلنے والی شافٹ سے زرا فاصلے پر بظاہر پرسکون کھڑی ڈینئیل کی ماں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ لوہے کے امدادی کیپسول کو کاغذ کی طرح پھاڑتے ہوئے اپنے ڈینئیل کو اتنے زور سے بھینچے کہ وہ اپنے کان کنی کے ہیلمٹ سمیت اُن کے اندر کہیں دور غائب ہوجائے۔

نہ جانے یہ ٹی وی سکرین اچانک دھندلا سی کیوں گئی؟

اسی بارے میں