فرانس: پندرہ سو پیٹرول پمپ خشک

نکولس سرکوزی
Image caption نکولس سرکوزی کی حکومت کو کڑے امتحان کا سامنا

فرانس میں نکولس سرکوزی کی حکومت کی طرف سے پیشن کے موجودہ نظام کی تبدیلوں کے خلاف ملک میں جاری احتجاج کی وجہ سے فرانس میں پیٹرول مصنوعات کی شدید قلت ہوگئی اور ایک اندازے کے مطابق پندرہ سو پیٹرول سٹیشن بند ہو چکے ہیں۔

فرانس کی بارہ آئل ریفائنریوں کے ورکر گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاج کر رہے ہیں اور گزشتہ روز ٹرک ڈرائیور بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے۔

مبصرین کے مطابق دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نکولس سرکوزی کی حکومت پر سب سے کڑا وقت آن پڑا ہے اور انہوں نے کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ پینش اصلاحات ضروری ہیں اور پینشن کے موجودہ طریقہ کار کو مالی سہارا دینا ناممکن ہو چکا ہے۔

نکولس سرکوزی کی حکومت ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال سے بڑھا کر باسٹھ سال اور سرکاری پینشن کی ادائیگی پینسٹھ سال کی بجائے سڑسٹھ سال سے شروع کرنا چاہا رہی ہے ۔

پینشن اصلاحات کا بل ایوان زیریں سے منظور ہو کر اب سینیٹ تک پہنچ چکا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ پینشن کا موجودہ طریقۂ کار زیادہ عرصہ چل نہیں سکتا ہے اور اس میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

یہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران فرانس میں ہونے والی پانچویں ملک گیر ہڑتال ہے۔ پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق منگل انیس اکتوبر کو ایک اور ہڑتال ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق ٹرک ڈرائیور دن بھر اور بھی کئی مقامات پر ’گو سلو‘ احتجاج کریں گے۔

پیٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق مغربی اور جنوبی فرانس میں کئی مزید پیٹرول ڈپوؤں کی ناکہ بندی کی گئی ہے اور کم از کم ڈیڑھ ہزار پٹرول پمپ جزوی یا کلی طور ہر بند ہو گئے ہیں۔

فرانس میں ساڑھے بارہ ہزار میں سے ساڑھے چار ہزار پٹرول پمپ کسی نہ کسی طور پر شاپنگ سنٹروں کے ساتھ منسلک ہیں اور ملک میں استعمال ہونے والے ساٹھ فیصد تیل ان پٹرول پمپوں پر فروخت ہوتا ہے۔

یونین آف انڈیپنڈنٹ پیٹرولیم امپورٹرز کے ایک سینیئر اہلکار الیگزینڈر دی بینواسٹ کا کہنا ہے کہ ان کی پچیس فیصد ڈسٹری بیوشن استعداد یا تو بند ہو چکی ہے یا پھر اس میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اس سے پہلے حکومت نے خبردار کیا تھا کہ پیرس کے سب سے بڑے ائیرپورٹ پر صرف چند دن کا ایندھن رہ گیا ہے۔

ایک حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ سرکاری اہلکار ایندھن کی سپلائی کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

معاشی امور کی وزیر کرسٹین لگارڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ’غیر ضروری طور پر فکر مند‘ نہ ہوں۔ ہڑتال نے ملک بھر میں تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور ایندھن کے ڈپوؤں کو متاثر کیا ہے۔

پیرس کے ہوائی اڈوں کو ایندھن کی سپلائی کی ذمہ دار کمپنی ٹراپِل نے جمعہ کے روز فرانسیسی میڈیا کو بتایا تھا کہ ہوائی اڈوں کو ایندھن کی سپلائی رک گئی ہے اور غواسی سے شاغل ڈگول ائیر پورٹ کو ایندھن کی سپلائی اگلے ہفتے تک بند ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں