فرانس: ٹرک ڈرائیور بھی ہڑتال میں شامل

Image caption ہڑتال نے ملک بھر میں تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور ایندھن کے ڈپوؤں کو متاثر کیا ہے

فرانس میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو بڑھانے اور سرکاری پینشن کی ادائیگی میں دو سال کی تاخیر کی حکومتی تجویز کےخلاف احتجاج جاری ہے اور اب ٹرک ڈرائیور بھی ہڑتال میں شامل ہوگئے ہیں اور ایندھن نہ ہونے کے باعث ہزار پٹرول پمپ بند ہو گئے ہیں۔

فرانس میں ورکروں نے گزشتہ رات سے کئی جگہوں پر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جن میں لیل-پیرس موٹر وے پر ’گو سلو‘ بھی شامل ہے۔

فرانسیسی پیٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایندھن کی کمی کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد سپرمارکیٹ پیٹرول پمپ بند ہو گئے ہیں۔

مزدور یونینیں صدر نکولس سرکوزی کی حکومت کی طرف سےمتعارف کرائی گئی پینشن اصلاحات کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں جس کے مطابق ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال سے بڑھا کر باسٹھ سال اور سرکاری پینشن کی ادائیگی پینسٹھ سال کی بجائے سڑسٹھ سال سے شروع کرنے کی تجویز ہے۔

پینشن اصلاحات کا بل ایوان زیریں سے منظور ہو کر اب سینیٹ تک پہنچ چکا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ پینشن کا موجودہ طریقۂ کار زیادہ عرصہ چل نہیں سکتا ہے اور اس میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

یہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران فرانس میں ہونے والی پانچویں ملک گیر ہڑتال ہے۔ پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق منگل انیس اکتوبر کو ایک اور ہڑتال ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق ٹرک ڈرائیور دن بھر اور بھی کئی مقامات پر ’گو سلو‘ احتجاج کریں گے۔

پیٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق مغربی اور جنوبی فرانس میں کئی مزید پیٹرول ڈپوؤں کی ناکہ بندی کی گئی ہے اور کم از کم ڈیڑھ ہزار پٹرول پمپ جزوی یا کلی طور ہر بند ہو گئے ہیں۔

فرانس میں ساڑھے بارہ ہزار میں سے ساڑھے چار ہزار پٹرول پمپ کسی نہ کسی طور پر شاپنگ سنٹروں کے ساتھ منسلک ہیں اور ملک میں استعمال ہونے والے ساٹھ فیصد تیل ان پٹرول پمپوں پر فروخت ہوتا ہے۔

یونین آف انڈیپنڈنٹ پیٹرولیم امپورٹرز کے ایک سینیئر اہلکار الیگزینڈر دی بینواسٹ کا کہنا ہے کہ ان کی پچیس فیصد ڈسٹری بیوشن استعداد یا تو بند ہو چکی ہے یا پھر اس میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اس سے پہلے حکومت نے خبردار کیا تھا کہ پیرس کے سب سے بڑے ائیرپورٹ پر صرف چند دن کا ایندھن رہ گیا ہے۔

ایک حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ سرکاری اہلکار ایندھن کی سپلائی کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

معاشی امور کی وزیر کرسٹین لگارڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ’غیر ضروری طور پر فکر مند‘ نہ ہوں۔ ہڑتال نے ملک بھر میں تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور ایندھن کے ڈپوؤں کو متاثر کیا ہے۔

پیرس کے ہوائی اڈوں کو ایندھن کی سپلائی کی ذمہ دار کمپنی ٹراپِل نے جمعہ کے روز فرانسیسی میڈیا کو بتایا تھا کہ ہوائی اڈوں کو ایندھن کی سپلائی رک گئی ہے اور غواسی سے شاغل ڈگول ائیر پورٹ کو ایندھن کی سپلائی اگلے ہفتے تک بند ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف فرانسیسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایندھن کا موجودہ ذخیرہ پیر کی شام یا منگل تک چل سکتا ہے۔

ترجمان کے مطابق شاغل ڈگول کو ایندھن مہیا کرنے والی پائپ لائن وقفے وقفے سے چل رہی ہے۔ ’ہم ائیرپورٹ کو ایندھن کی سپلائی کی مکمل بحالی کے لیے متبادل حل تلاش کر رہے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں بہت پراعتماد ہیں۔‘

ملک بھر میں بارہ سے زیادہ تیل صاف کرنے کے کارخانے یونین کی ہڑتال سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے دو یا تو بند ہو چکے ہیں یا بند ہونے والے ہیں۔ ایندھن کے کئی ڈپوؤں کی ناکہ بندی کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں