وکی لیکس دستاویز: امریکی تیاری

Image caption ویکی لیکس نے رواں سال جولائی میں افغان جنگ کے متعلق ہزاروں خفیہ معلومات جاری کی تھیں

امریکی فوج نے انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات جاری کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کی جانب سے عراق جنگ سے متعلق چالیس ہزار دستاویزات کی ممکنہ اشاعت کے پیش نظر تیاری کرنے کے لیے ایک سو بیس ممبران پر مشتمل ٹیم تشکیل دی ہے۔

دستاویزات کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگی سرگرمیوں اور عراقی سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق ہوں گی۔

ابھی ان دستاویزات کے جاری کرنے کا وقت معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

’امریکی سلامتی خطرے میں ڈالی گئی‘

پاکستان اب بھی طالبان کی مدد کر رہا ہے: ویکی لیکس

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر نقصان دہ معلومات کو جاری ہونے سے روکنے کے لیے دستاویزات کی واپسی چاہتے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان کرنل ڈئیو لپان کا کہنا ہے کہ ٹیم عراق جنگ سے متعلق فائلوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وکی لیکس کی ریلیز سے ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان فائلوں میں عراق جنگ سے متعلق معلومات ہیں جن میں’با معنی اقدامات، یونٹ لیول پر رپوٹنگ، ٹیکٹیکل رپورٹس اور اس طرح کی دیگر چیزیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ دستاویزات پینٹاگون کو واپس کر دینی چاہییں کیونکہ ’ہمیں یقین نہیں ہے کہ وکی لیکس یا کسی اور کو اس ضمن میں درکار مہارت حاصل ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں ہے کہ کسی کے نام نکال لیے جائیں، اس کے علاوہ بہت سی دوسری چیزیں اور دستاویزات ہیں جن میں نام نہیں ہیں لیکن ان کے منظور عام پر آنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی تک معلومات جاری کرنے کے وقت کا اندازہ نہیں ہے لیکن وہ زیادہ سے زیادہ پیر یا منگل کے دن کو سامنے رکھتے ہوئے تیاری کر رہے ہیں۔

دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ معلومات رواں ماہ کے اواخر تک جاری ہو سکتی ہے۔

Image caption ویکی لیکس ویب سائٹ اس وقت بند ہے جب کہ سائٹ کے خالق کو مبینہ جنسی جرم کرنے پر تفتیش کا سامنا ہے

اس وقت وکی لیکس کی ویب سائٹ شیڈول کی بحالی کی وجہ سے بند پڑی ہے جبکہ ویب سائٹ کے خالق سے اس وقت سویڈن میں مبینہ جنسی جرم کے الزام میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ وکی لیکس نے رواں سال جولائی میں افغان جنگ سے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کیے تھے لیکن امریکی فوجی حکام نے خبردار کیا تھا کہ دستاویزات منظر عام پر آنے سے نہ صرف امریکی فوجیوں اور افغان شہریوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ ان میں بعض افغان شہریوں کے نام بھی شامل ہیں جنھوں نے اتحادی افواج کی مدد کی تھی۔

افغان جنگ سے متعلق خفیہ دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات میں امریکی فوج کے خفیہ امور کے اہلکار پریڈلے مینِنگ پر توجہ مرکوز ہے، پریڈلے میننگ کو ایک کلاسیفائڈ ویڈیو جاری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

وکی لیکس پر جاری ہونے والی اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ دو ہزار سات میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر سے عراقی شہریوں پر حملہ کیا جاتا ہے جس میں درجن کے قریب لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں