گلعاد شالیط کی رہائی کے بات چیت شروع

Image caption اسرائیلی وزیر اعظم اپنے فوجی کی رہائی میں دلچسپی نہیں رکھتے: حماس ترجمان اسامہ ہمدان

اسرائیل کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ فلسطینی تحویل میں اسرائیلی فوجی گلعاد شالیط کی رہائی کے لیے کوششیں ایک بار پھر شروع ہو گئی ہیں۔

فلسطینی تنظیم حماس نےگزشتہ چار سال سے اسرائیلی فوجی گلعاد شالیط کو اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے اور وہ اس کے بدلے ایک ہزار فلسطینیوں قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اسرائیل وزیر اعظم بینجمن نتین یاہو پہلے ہی ایک ہزار ایسے قیدیوں کی فہرست حماس کو مہیا کر چکے ہیں جن کو وہ رہا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن فلسطینی تنظیم نے اس فہرست کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ اس فہرست میں وہ نام شامل نہیں ہیں جن کی رہائی میں حماس دلچسپی رکھتی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ مصالحت کاروں نے گلعاد شالیط کی رہائی ایک بار پھر کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ البتہ گلعاد شالیط نے اس تاثر کی رد کر دیا ہے کہ ان کی بیٹے کی رہائی کے لیے کوئی بامقصد بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہر چیز رکی ہوئی ہے کیونکہ آخری فیصلہ وزیر اعظم نے کرنا ہے۔

حماس کے ترجمان اسامہ ہمدان نے کہا ہے کہ جرمن مصالحت کاری کی کوششیں کوئی نئی بات نہیں لیکن اسرائیلی فوجی کی رہائی کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم اس سلسلے میں سب سے بڑی روکاوٹ ہیں۔

گلعاد شالیط 2006 میں اسرائیلی سرحدی چوکی پر حماس کے ایک حملے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

گلعاد شالیط کو اغوا کرنے والوں نے کئی مرتبہ خطوط اور آڈیو جاری کیے ہیں

اسی بارے میں