وکی لیکس کے بانی پر زمین تنگ

Image caption ویکی لیکس نے رواں سال جولائی میں افغان جنگ کے متعلق ہزاروں خفیہ معلومات جاری کی تھیں

سویڈن کی حکومت نےوکی لیکس کے بانی جولین اسانش کو رہائش اختیار کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

سویڈش امیگریشن بورڈ کی سربراہ نے جولین اسانش کی درخواست کو رد کرنے کی وجوہ بیان کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجوہات خفیہ ہیں۔

وکی لیکس کے بانی ایک آسٹریلوی شہری ہیں لیکن وہ آزادی اظہار کے کھلے قوانین کی وجہ سے سویڈن میں سکونت اختیار کرنے کے خواہشمند تھے اور انہوں نے اگست میں سویڈن حکام کو مستقل سکونت کی اجازت دینے کی درخواست دائر کی تھی۔

سویڈن کی حکومت کی طرف سے جولین اسانش کی درخواست کو ایک ایسے وقت مسترد کیا گیا جب وکی لیکس عراق جنگ کے بارے میں چار لاکھ دستاویزات کو منظر عام پر لانےکی تیاری میں مصروف ہیں۔

’امریکی سلامتی خطرے میں ڈالی گئی‘

پاکستان اب بھی طالبان کی مدد کر رہا ہے: ویکی لیکس

امریکی فوج نے وکی لیکس کے طرف جنگ عراق سے متعلق دستاویزات کے افشا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک سو بیس افراد پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی رکھی ہے۔

جولائی میں وکی لیکس نےافغان جنگ کے حوالے سے ہزاروں دستاویزات کو منظر پر لایا تھا جس کے بارے میں امریکی فوج کا کہنا تھا کہ اس سے کئی امریکی اور افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

سویڈن کے مائگریشن بورڈ کی سربراہ گنیلا وکسٹرویم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا:’ ہم نے جولین اسانش کو سکونت کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ سویڈن میں رہائش اختیار کرنے کےلیے شرائط پوری نہیں کرتے۔‘

افغان جنگ سے متعلق دستاویزات کوافشا کرنے کے بعد جولین اسانش پر مبینہ جنسی جرائم کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

جولین اسانش نےالزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی کردار کشی کی مہم کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں