چین دارفور رپورٹ شائع ہونے سے روک رہا ہے

دارفور میں امن فوج
Image caption دارفور میں امن فوج پر فائرنگ کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے تھے

سفارتکاروں کے مطابق چین اس رپورٹ کو شائع ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دارفور میں امن فوج کے خلاف چین کی بنی ہوئی گولیاں استعمال کی گئی تھیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک کمیٹی اس رپورٹ پر غور کر رہی ہے۔ یہ کمیٹی سوڈان کے خلاف پابندیاں، جن میں اسلحے پر پابندی بھی شامل ہے، مانیٹر کرتی ہے۔

بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس میں الفاظ واضح نہیں اور اس میں بہت خامیاں ہیں۔

سوڈان کے مغربی خطے میں جنگ بندی اور امن مذاکرات لڑائی ختم کروانے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک درجن سے زائد چینی ساخت کی گولیوں کے خول دارفور میں اس جگہ سے ملے ہیں جہاں امن فوج پر حملہ ہوا تھا۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق یہ الزامات متنازع ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ چین کو حق ہے کہ وہ خرطوم کو اسلحہ بیچے بس یہ اسلحہ دارفور میں استعمال نہیں ہونا چاہیئے۔

ماہرین کے ایک پینل کی طرف سے تیار کی گئی یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو باقاعدہ طور پر پیش کیے جانے کے بعد شائع کی جانی تھی۔

اقوامِ متحدہ کی کمیٹی سے ملاقات کے بعد چین کے سفارتکار نے کہا کہ ’ان کی حکومت رپورٹ کی شدید مخالفت کرتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انہیں باخبر ذرائع کہاں سے ملے ہیں؟ کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں حقائق کی تشدیق نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں