ٹویوٹا کی پندرہ لاکھ کاریں واپس طلب

ٹویوٹا
Image caption ٹویوٹا اس برس اپنی کئی لاکھ کاریں واپس منگوا چکا ہے

گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹویوٹا نے بریک اور ایندھن پمپ میں خرابی کے سبب دنیا بھر سے تقریبا پندرہ لاکھ کاریں واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہےکہ ایولون، ہائی لینڈر اور لیکسس ماڈل کی اس کاریں اس کے زمرے میں آتی ہیں۔

اس فیصلے سے امریکہ میں سات لاکھ چالیس ہزار، جاپان میں چھ لاکھ اور برطانیہ میں سترہ ہزار کاریں متاثر ہوں گي۔ ایسی کچھ کاریں چین میں بھی ہیں جنہیں درست کرنےکی ضرورت ہے۔

کمپنی چاہتی ہے کہ بریک کے ماسٹر سلنڈر سے تیل لیک ہونا بند ہو جائے جس سے وارننگ لائٹ جلنے لگتی ہے۔ اس خرابی سے بریک ڈھیلا ہو جاتا ہے اور پھر وہ لگتا ہی نہیں۔

Image caption ٹویوٹا اس برس اپنی لاکھوں کاریں واپس بلا چکا ہے

ٹویوٹا کا کہنا ہے کہ اگر بریک کی وارننگ لائٹ جلنے لگے تب بھی ڈرائیور کے پاس دو سو میل تک گاڑی چلانے کا وقت ہے جس کے دوران بریک پوری طرح خراب ہونے سے پہلے اسے درست کیا جا سکتا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ اس خرابی کےسبب ابھی تک اسے کسی حاد ثے کا کوئی علم نہیں ہے۔ برطانیہ میں جن ماڈل میں یہ مشکلات پائی گئی ہیں وہ لیکسس آئی ایس، جی ایس اور آر ایکس دو ہزار اور پانچ کے درمیان کی بنی ہیں۔

کمپنی کے ایک پریس ریلیز کے مطابق امریکہ میں دو ہزار پانچ اور چھ کےدوران بنی ہوئی ایولان، دو ہزار چار اور چھ کے درمیان کی ہائی لینڈر ، لیکسس آر ایکس 330 ، لیکسس جی ایس 300، آئی ایس 250 اور آئی ایس 350 کاریں متاثر ہوں گي۔

اس بارے میں نومبر کے پہلے ہفتے میں کار مالکان کو آگاہ کیا جائےگا اور پھر ان کی کار کی بریک سیلنڈر کو نئی کٹ سے تبدیل کر دیا جائےگا۔

ٹویوٹا نے اس برس چودہ مرتبہ اپنی کاریں مارکیٹ سے واپس بلانے کا اعلان کیا ہے اور اس طرح وہ تقریباۙ ایک کروڑ کاروں کو واپس بلا چکی ہے۔

اسی بارے میں