تبت: اصلاحات کے خلاف طلباء مظاہرے

تبت میں چین کے سرکاری میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظمیوں کے مطابق مادری زبان میں تعلیم کے حق میں مزید طلبا سٹرکوں پر نکل آئے ہیں۔

چنگئی صوبے میں بدھ کو تعلیمی اصلاحات کے خلاف پر امن مظاہرے کیے۔ اس سے پہلے تورن شہر میں بھی ایک مظاہرہ ہوا تھا۔

یہ مظاہرے اُن غیر مصدقہ اطلاعات کے پس منظر ہورہے ہیں جن کہا گیا کہ چینی زبان کو حاوی کرنے اور تبتی زبان کو دبانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ شین گئی میں 2008 میں مقامی نسلی افراد میں چین کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوچکے ہیں۔

حالیہ مظاہرے میں ہزاروں نو عمر طلبا نے اپنی تبتی زبان میں تعلیم جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

چابچا شہر اور گونگھی میں کوئی دو ہزار طلباء نے نعرے بلند کیے کہ ’ہم اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کی آزادی چاہتے ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق شنگھائی میں بھی مڈل سکول کے طلباء نے مظاہرے کیا مگر اس کے زیادہ تفصیلات نہیں مل سکیں۔

گلوبل ٹائمز اخبار کے مطابق گونگھی میں زیادہ تر طلباء اپنی سکول کی یونیفارم میں تھے اور مظاہرہ بلکل پر امن تھا۔

تعلیمی نصاب میں تبدیلی کے لیے چینی حکام کا جواز ہے کہ نسلی آبادیوں میں چینی زبان پڑھانے جانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ ملک کے مرکزے دھارے سے مربوط ہو سکیں گے۔

مگر بہت سے تبتی اسے اپنی ثقافت کو کچلنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کی اس ریاست میں چین کے اثر رسوخ اور کنٹرول کو بڑھانے کا حربہ ہے۔

خود مختار ریجن تبت پر چین کا سخت کنٹرول ہے۔ مگر چین کے کئی علاقوں میں تبت کے شہریوں کو زیادہ آزادی حاصل ہے، تبت کے علاوہ چین کے دوسرے صوبے چنگئی کی سرکاری زبان بھی تبتی ہے۔

چینی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ جو ماضی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ، وہ یہاں کی آبادی کو معاشی اور ترقیاتی مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں