آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 اکتوبر 2010 ,‭ 14:34 GMT 19:34 PST

پاکستان کیلیے دو ارب ڈالر کی فوجی امداد

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

واشنگٹن میں ہونے والے پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کے آخری دن امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے لیے دو ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات تین دن سے جاری تھے اور باور کیا جا رہا تھا کہ مذاکرات کے اختتام پر امریکہ پاکستان کے لیے ایک بڑی فوجی اور سکیورٹی امداد کا اعلان کرنے والا ہے۔

اس امداد کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی اور اگلے چار برس کے دوران دی جائے گی۔ اس سے پاکستان انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اسلحہ اور ضروری سامان خرید سکے گا۔

یہ امداد پاکستان کو سول مقاصدر کے لیے پہلے دی جانے والی ساڑھے سات بلین ڈالر امداد کے علاوہ ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے امداد کا اعلان کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراھا۔

ہم پاکستان کی کوششوں کا اعتراف اور پاکستانی فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہیں، جنھوں نے پاکستان کے ریاست کے لیے خطرہ بننے والوں کے خلاف کارروائی کر کے ملک میں امن و امان کی بحالی ممکن بنائی ہے۔

ہلیری کلنٹن

انھوں نے کہا کہ ’اُن انتہا پسندوں کے خلاف پاکستان امریکہ کا مضبوط اتحادی ہے، جو پاکستان اور امریکہ دونوں کے لیے خطرہ ہیں، ہم پاکستان کی کوششوں کا اعتراف اور پاکستانی فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہیں، جنھوں نے پاکستان کے ریاست کے لیے خطرہ بننے والوں کے خلاف کارروائی کر کے ملک میں امن و امان کی بحالی ممکن بنائی ہے‘۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تاریخی جد وجہد قرار دیا اور کہا ’ ہم ایک ایسے دشمن کے خلاف لڑ رہے ہیں جو کسی قانون کا احترام نہیں کرتا۔ ہم نے اس جد وجہد میں قیمتی جانیں گنوائیں ہیں، پاکستان میں کو ئی تیس ہزار شہری افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ جبکہ ہر شہری کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں خود کش بمبار حملوں کا سامنا رہتا ہے، اس لڑائی میں قانون نافذ کرنے والے سات ہزار کے لگ بھگ اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں‘۔

انھوں نے کہاکہ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان کا جانی نقصان افغانستان میں نیٹو افواج کے جانی نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔

مذاکرات میں اعلٰی پاکستانی و امریکی حکام شریک ہیں

امریکی حکام کے مطابق اس امداد کے ساتھ کوئی شرائط نہیں رکھی جائیں گی۔تاہم اوباما انتظامیہ پاکستان پر یہ واضح کر دے گی کہ وہ اسلامی شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے زیادہ اقدامات کرے۔

سنہ 2005 سے امریکہ ہر سال پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں یہ امداد دو ارب ڈالر کے قریب رہی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار کم غٹاس کے مطابق امریکی اہلکار کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں مزید اور مخصوص امداد چاہیے۔

پاکستان اور افغانستان کے متعلق سینیئر امریکی مشیر ولی نصر نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ سال پاکستانی شدت پسندوں کے خلاف جنگ پھیل گئی تھی لیکن موسمِ سرما کے سیلاب نے پاکستان فوج کی کوششوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان اور افغانستان پر امریکہ کے نمائندۂ خصوصی نے اس ہفتے کہا تھا کہ ’اس سلسلے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اس پیش رفت سے ہماری سرزمین کے خلاف خطرے میں کمی ہوئی ہے، لیکن یہ ابھی ختم نہیں ہوا۔‘

اس سلسلے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اس پیش رفت سے ہماری سرزمین کے خلاف خطرے میں کمی ہوئی ہے، لیکن یہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

ولی نصر

اس سے قبل امریکی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکہ پاکستان کو فوجی ساز و سامان دینے پر بھی غور کر رہا ہے اور یہ امداد ساڑھے سات ارب ڈالر کی سویلین امداد سے الگ ہوگی۔

اس امداد کی مالیت کے بارے میں امریکی ترجمان نے کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن پاکستانی وفد کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق یہ دو ارب ڈالر سے زیادہ کا پیکیج ہوگا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ اس فوجی مدد کے بدلے چاہتا ہے کی پاکستان شمالی وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف ایک فوجی آپریشن فوری طور پر شروع کرے اور پاکستانی وفد اسےمعاملے میں سنجیدہ ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔