ہیٹی:ہیضے سے درجنوں ہلاک

فائل فوٹو
Image caption حکام کی کوشش ہے کہ بیماری دوسرے علاقوں تک نا پھیل جائے

ہیٹی میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مرکزی علاقے میں ہیضے کی وباء پھیلنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ڈھائی سو سے زیادہ ہو گئی ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں ہیضے کے پانچ مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کی ترجمان ایموجن وال نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہیضے کے مریضوں کی فوری نشاندہی کے بعد ان کو دوسرے مریضوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد ہیضے کی وباء سے متاثرہ علاقے آرٹیبونائٹ میں متاثر ہوئے تھے اور اس کے بعد یہ سفر کرتے ہوئے دارالحکومت پہنچے جہاں بیمار ہو گئے۔

ترجمان کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ دارالحکومت’ ہیضے کی وباء کا نیا مرکز نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ جنوری میں ہیٹی میں شدید زلزلہ آیا تھا جس میں پچیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر دارالحکومت ہوا تھا۔

اس سے پہلے انھوں نے دارالحکومت میں ہیضے کے مرض کا امکان ظاہر کیا تھا جہاں رواں سال جنوری میں زلزلے کے بعد سے دس لاکھ سے زائد متاثرہ افراد خیموں میں مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

Image caption اگر وباء ان کیمپوں تک پہنچ گئی تو پھر اس سے ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے

اندیشہ اس بات کا ہے کہ اگر وباء ان کیمپوں تک پہنچ گئی تو ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ہیضے سے دو ہزار چھ سو چوہتر افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ ہیضے کی وباء کو سینٹرل پلیٹیئو اور آرٹِیبونائٹ کے علاقوں تک محدود رکھا جائے اور دوسرے علاقوں میں نہ پھیلے۔

حکام کا کہنا ہے ایک سو چورانوے ہلاکتیں آرٹیبونائٹ اور چودہ سینٹرل پلیٹئیو میں ہوئی ہیں۔

حکام کے مطابق ہیضے سے بچاؤ کے حوالے سے حفاظتی اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں اور خمیہ بستیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ میڈیکل ٹیمیں ملک کے شمالی علاقوں میں بھیجی گئی ہیں تاکہ ہیضے سے متاثرہ افراد کو وہیں علاج کیا جا سکے اور وہ علاج کے لیے دارالحکومت کا رخ نہ کریں۔

اقوام متحدہ کے مطابق دارالحکومت پورٹ او پرنس میں ٹینٹ کلینک قائم کرنے کے لیے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں دوسرے لوگوں سے الگ ہیضے کے مریضوں کا اعلاج کیا جائے گا۔

اس سے پہلے سنیچر کو حکام کے مطابق ڈھائی ہزار سے زائد ایسے مریضوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جو اسہال، شدید بخار، قے اور بدہضمی میں مبتلا ہیں۔

ستّر سالہ مریض جان بیپٹائز کا کہنا تھا ’ مجھے رات کو چار بار قے کے لیے باتھ روم جانا پڑا۔‘ ایک دوسرے شخص کا کہنا تھا کہ ان کے چند رشتے دار کچھ ہی گھنٹوں کے وقفے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایک مقامی ڈاکٹر جانی فیکیویئر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اٹھائیس مریضوں کو مرتے دیکھا ہے۔’ ہم لوگوں کا خیال کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں ادویات کی کمی کا سامنا ہے۔ ہمیں اضافی میڈیکل کٹس چاہیں۔ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے ہم دے رہے ہیں لیکن ابھی بہت سی چیزوں کی مزید ضرورت ہے۔‘

ہیضے سے سبھی عمر کے لوگ متاثر ہوئے ہیں لیکن سب سے برا اثر بوڑھوں اور بچوں پر پڑا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد نے مقامی ندی ارٹیبونائٹ کا پانی پیا تھا جس کی وجہ سے ہی اس بیماری کی شروعات ہوئی اور پھر وہ وباء کی شکل اختیار کرگئی۔

اسی بارے میں