مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا کوئی ارادہ نہیں: پینٹاگون

عراق میں تشدد
Image caption عراقی فوجیوں پر عام عراقی شہریوں پر تشدد کا الزام لگایا گیا ہے

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگن نے کہا ہے کہ اسکا عراق کی جنگ کے دوران انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جو گزشتہ روز انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کی جانب سے افشاء کی گئی امریکی فوج کی خفیہ دستاویزات میں سامنے آئی ہیں۔

’دستاویزات افشا کرنے کا مقصد سچائی کو سامنے لانا ہے‘

عراق میں تشدد کو نظر انداز کیا گیا: وکی لیکس

وکی لیکس کیا ہے

وکی لیکس کے سربراہ پر زمین تنگ

پینٹاگن کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی افواج عراق میں قیدیوں پر عراقی سکیورٹی فورسز کے مبینہ تشدد کی اطلاعات عراق کے حکام تک پہنچاتی رہی تھی اور امریکی فوج کی چار لاکھ خفیہ دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے ان واقعات کے بارے میں پینٹاگن کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

بی بی سی نیوز کو دیے گئے ایک تحریری بیان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل ڈیو لیپن نے مزید کہا کہ امریکی پالیسی، تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب الزامات ہی عراقیوں کے ہاتھوں عراقیوں پر تشدد سے متعلق ہوں تو امریکی فوجیوں کا کردار اس سے زیادہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے جو کچھ دیکھا وہ اپنے اعلی حکام تک رپورٹ کردیں اور پھر متعلقہ حکام یہ شہادتیں عراقی حکام تک پہنچا دیں۔

کرنل لیپن کے بقول ’یہی روایتی عالمی طریقہ کار ہوتا ہے۔‘

Image caption وکی لیکس کے بانی نے دستاویزات افشا کرنے کا دفاع کیا ہے

انہوں نے کہا کہ ’وکی لیکس نے عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی جو فیلڈ رپورٹس شائع کی ہیں انہیں اس وقت کے سینیئر افسروں نے دیکھا تھا اور اس پر ضروری کارروائی بھی کی تھی۔‘

امریکی محکمہ دفاع نے ان کلاسیفائیڈ یا خفیہ دستاویزات کی پردہ کشائی کی سختی سے مذمت کی ہے۔

امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مائیک مولن نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وکی لیکس کے اس اقدام کو غیرذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وکی لیکس نے کئی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے اور امریکہ کے دشمنوں کو قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔

لیکن وکی لیکس کے بانی جولین اسانش نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے کہا ہے کہ اس معلومات کے انکشاف کا مقصد عراق کی جنگ کے متعلق حقائق کو سامنے لانا ہے۔

ادھر عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے دفتر نے ان دستاویزات کو منظر عام پر لانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور اسے ان کی حکومت سازی کی کوششوں کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

عراق میں اس سال مارچ میں ہونے والے انتخابات میں کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی جس کے بعد سے حکومت سازی کا عمل سات ماہ گزرجانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بغداد کے لوگوں کو وکی لیکس کی جانب سے افشاء کی گئی معلومات پر کوئی خاص حیرت تو نہیں ہوئی ہے لیکن اس نے ملک میں سیاسی شعلوں کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

اسی بارے میں