کرزئی: ایران نے پیسے دیے ہیں

صدر حامد کرزئی
Image caption صدر کرزئی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے رقم کسی ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ صدارتی دفتر کو چلانے میں مدد کے لیے ہے

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت کو ایران سے رقم ملی ہے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ یہ سب ایک شفاف طریقے سے ہوا ہے۔

صدر کرزئی ایک پریس کانفرنس میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی اس خبر پر اپنے درعمل کا اظہار کر رہے تھے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ صدر کرزئی کے معاونین کو تہران سے نوٹوں سے بھرے تھیلے موصول ہو رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس رقم کی فراہمی کا مقصد کابل میں ایران کے مفادات کو فروغ دینا ہے۔

صدر کرزئی نے کہا کہ یہ رقم کسی ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ صدارتی دفتر کو چلانے میں مدد کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت اور بھی کئی ممالک نے افغانستان کو اسی طرح رقوم فراہم کی ہیں۔

’ ایرانی حکومت ہمیں سال میں ایک یا دو مرتبہ پانچ یا چھ یا سات لاکھ یورو کی امداد فراہم کرتی ہے اور یہ ایک سرکاری امداد ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال اگست میں صدر کرزئی کے ایران کے دورے کے اختتام پر صدر کرزئی کے چیف آف اسٹاف عمر داود زئی کو افغانستان میں ایرانی سفیر فدا حسین مالکی کی جانب سے یورو سے بھرا ہوا ایک بڑا تھیلا دیا گیا۔

رپورٹ میں افغان اور مغربی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا گیا ہے کہ ان رقوم کے ذریعے ایران صدارتی محل میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان اہلکاروں نے الزام لگایا ہے کہ تہران کی جانب سے لاکھوں ڈالر کی جو رقوم فراہم کی گئی ہیں انہیں افغان سیاستدانوں، قبائیلی رہنماوں اور یہاں تک کہ طالبان کمانڈروں کی وفاداریاں خریدنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

تاہم کابل میں ایرانی سفارت خانے نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو بے ہودہ اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے اس کی پر زور تردید کی ہے۔

اسی بارے میں