افغانستان: شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات

فضائی حملہ
Image caption نیٹو کے اس فضائی حملے میں پچیس عام شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

افغانستان میں بین الاقومی افواج نے کہا ہے کہ وہ ملک کے جنوب میں نیٹو کے ایک فضائی حملے میں پچیس عام شہریوں کی ہلاکت کی رپورٹ کی تحقیقات کر رہی ہے۔

نیٹو کے اہلکاروں نے ہلمند صوبے میں ایک فضائی حملے کی تصدیق کی تھی لیکن ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے افغان حکومت کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ نیٹو کے اس فضائی حملے میں پچیس عام شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

ہلمند کی صوبائی کونسل کے سربراہ فضل باری کا کہنا ہے کہ مقامی اہلکاروں نے انہیں بتایا ہے کہ پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ کئی لاشیں ابھی تک ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد ہلمند صوبے کے بغران ڈسٹرکٹ میں ایک مسجد میں موجود تھے لیکن نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی اطلاع نہیں ملی کہ اس حملے میں کوئی مسجد نشانہ بنی ہے۔

ایک عینی شاہد صالح نے اے پی کو بتایا کہ لوگ سخت غصے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صبح دو بجے کے قریب غیر ملکی فوجی علاقے میں آئے اور فضائی حملے سے پہلے ان کی شدت پسندوں کے ساتھ شدید جھڑپ ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ اس بڑی مسجد کی صرف دو دیواریں اور ایک چھوٹا کمرہ ہی بچا ہے اور لوگ لاشوں کو ابھی تک ملبے سے نکالنے میں مصروف ہیں۔

افغانستان کے جنوب اور مشرقی علاقوں میں پاکستان کی سرحد کے قریب طالبان کی جانب سے غیر ملکی افواج کے خلاف روایتی طور پر سخت مزاحمت رہی ہے۔

اسی بارے میں