اروندھتی رائے کا بیان

میں یہ سری نگر کشمیر سے لکھ رہی ہوں۔ آج کے اخبارات نے کہا ہے کہ میں نے حالیہ عوامی اجتماعات میں کشمیر کے بارے میں جو کہا ہے اس پر مجھے بغاوت کے الزامات کے تحت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

میں نے جو کچھ کہا ہے وہ یہاں لاکھوں افراد روز کہتے ہیں۔ میں نے جو کہا ہے وہ میں اور دوسرے مبصرین برسوں سے لکھ رہے ہیں۔ ہر وہ شخص جو میری تقاریر کے متن پڑھنے کی زحمت کرے گا اس کو یہ معلوم ہوگا کہ یہ بنیادی طور پر انصاف کے لیے اپیل ہے۔

میں نے کشمیر کے لوگوں کے لیے انصاف کی بات کی ہے جو دنیا کی ظالم ترین فوجی کارروائیوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں، ان کشمیری پنڈتوں کے لیے انصاف کی بات کی ہے جنہیں اپنے ہی وطن سے نکالے جانے کا المیہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

وہ دلت فوجی جو کشمیر میں مارے گئے اور جن کی قبریں میں نے دیکھیں جو کڈالور میں ان کے گاؤں میں کچرے کے ڈھیروں میں بنی ہوئیں تھیں اور وہ غریب ہندوستانی جو اس قبضے کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل ہوتے ہوئے اس ملک میں خوف کے سائے میں زندہ رہنا سیکھ رہے ہیں۔

گزشتہ روز میں شوپیاں گئی، سیبوں کے لیے مشہور جنوبی کشمیر کا وہ قصبہ جو گزشتہ برس دو نوجوان خواتین آسیہ اور نیلوفر پر ظالمانہ جنسی تشدد اور ان کے قتل کے خلاف ہونے والے احتجاج کی وجہ سے سینتالیس روز تک بند رہا۔ ان خواتین کی لاشیں ایک چشمے سے ملیں تھیں اور جن کے قاتلوں کو آج تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا ہے۔

میں وہاں شکیل سے ملی جو نیلوفر کا شوہر ہے اور آسیہ کے بھائی سے ملی۔ ہم وہاں ان لوگوں سے ملے جو غم اور غصے سے بھرے ہوئے ہیں اور انہیں بھارت سے کسی انصاف کے ملنے کی امید ختم ہو چکی ہے اور وہ اب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آزادی ہی ان کی واحد امید ہے۔

میں پتھراؤ کرنے والے ایسے نوجوانوں سے ملی جن کی آنکھوں کو نشانہ بنایا گیا۔ میں نے ایک ایسے نوجوان کے ساتھ سفر کیا جس نے مجھے بتایا کہ اننت ناگ میں اس کے تین دوستوں کو کس طرح حراست میں لیا گیا اور پتھراو کرنے کی سزا کے طور پر ان کے ناخن اکھاڑ لیے گئے۔

اخبارات میں کچھ لوگوں نے مجھ پر نفرت پھیلانے والی تقاریر کرنے اور بھارت کو توڑنے کی خواہش رکھنے کا الزام لگایا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس میں جو کہتی ہوں وہ محبت اور فخر کے جذبے سے تحریک پاتا ہے۔ میں جو کہتی ہوں وہ اس جذبے اور خواہش سے تحریک پاتا ہے کہ لوگ ہلاک نہ ہوں، ان پر جنسی تشدد نہ ہو، انہیں قید نہ کیا جائے یا انہیں اپنے آپ کو بھارتی کہنے پر مجبور کرنے کے لیے ان کے ناخن نہ اکھیڑے جائیں۔

میں جو کہتی ہوں اس کے پیچھے یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہیں جو انصاف پر مبنی ہے۔

تف ہے اس قوم پر جسے ضمیر کی بات کرنے والے اپنے مصنفوں کو خاموش کرنا پڑے۔ تف ہے اس قوم پر جسے ان لوگوں کو پابندِ سلاسل کرنا پڑے جو انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں جب کہ مذہبی بنیادوں پر ہلاک کرنے والے، قتل عام کرنے والے، کارپوریٹ فراڈیے، لوٹ کھسوٹ کرنے والے، جنسی تشدد کرنے والے اور وہ لوگ جو غریب ترین لوگوں کا شکار کرتے ہیں دندناتے پھریں۔