آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 اکتوبر 2010 ,‭ 00:25 GMT 05:25 PST

طارق عزیز کو سزائے موت سنا دی گئی

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

عراقی سپریم کورٹ نے عراق کے سابق وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم طارق عزیز کو سزائے موت سنائی ہے۔ وہ صدام کے آخری دنوں میں واحد حکومتی نمائندے تھے جو عراق کی شناخت تھے۔

اس سےسلسلے میں جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں یہ سزا عراق میں مذہبی جماعتوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی بنا پر سنائی گئی ہے۔

طارق عزیز کو صدام حسین کا انتہائی قریبی مشیر تصور کیا جاتا تھا۔ اس سے پہلے انھیں درجنوں تاجروں کو منافع خوری پر پھانسیاں دینے میں ملوث ہونے پر بھی سزا سنائی جا چکی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ طارق عزیز ان دنوں فالج کے حملے کے بعد شدید علیل ہیں۔

عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن سے جاری کی جانے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ ’عراق کی سپریم کریمنل کورٹ نے مذہبی جماعتوں کا صفایا کرنے میں ملوث ہونے پر طارق عزیز کی پھانسی کے احکامات جاری کر دیے ہیں‘۔

طارق عزیز مذہباً پر عیسائی ہیں، 2003 میں بغداد پر قبضے کے فوراً بعدانھوں نے خـود کو امریکی افواج کے حوالے کر دیا تھا۔

انھیں 2009 میں بیالیس تاجروں کو پھانسیاں دینے کے الزام میں پندرہ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔