امریکہ کا عراق تشدد کے الزامات سے انکار

فائل فوٹو
Image caption عراق میں تعینات امریکی فوج پر کوتاہی برتنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں

امریکہ نے کہا ہے کہ وکی لیکس نے عراق میں ٹارچر یعنی تشدد کے متعلق جو دعوے شا‏ئع کیے ہیں وہ درست نہیں ہیں اور اس نےعراقیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے چشم پوشی نہیں کی ہے۔

عراق میں دو ہزار چار سے دو ہزار سات کے درمیان امریکی افواج کے سربراہ رہنے والے جنرل جارج کیسی نے کہا ہے کہ فوجیوں کو یہ ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ کسی بھی بدسلوکی یا نازیبا حرکات کے الزامات کے بارے میں مطلاع کریں۔

حال ہی میں خفیہ دستاویزات افشان کرنے کے لیے معروف ویب سائٹ وکی لیکس نے عراق جنگ کے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کی تھیں۔

ان سے پتہ چلتا ہے کہ حراست میں لیےگئے افراد یا قیدیوں کے ساتھ تشدد کیا جاتا تھا اور ان کے ساتھ زیادتیاں ہوتی رہیں لیکن امریکی فوجیوں نے اس عمل کب نذر انداز کر دیا۔

پیر کے روز جنرل کیسی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ سابق صدر جارج بش کے دور اقتدار میں یہ پالیسی تھی کہ کسی بھی بدسلوکی کی اطلاع یا الزام کو رپورٹ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا ’ہماری پالیسی یہ تھی کہ اگر کسی امریکی فوجی کو کسی بھی قیدی کے ساتھ زیادتی کا پتہ چلے تو وہ اسے فورا روکے اور اس کے متعلق اپنے سینیئرز کو آگاہ کرے۔‘

Image caption امریکہ عراق میں اپنے بچے ہوئے فوجی نکالنے کی تیاری میں ہے

امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بھی جنرل کیسی کے بیان کی تائید کی گئی ہے۔

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے اپنے بیان میں کہا ’ ہم نے اس سے چشم پوشی نہیں کی تھی۔ اگر اس کسیکا احتساب ہونا ہے تو سب سے پہلے عراقی حکومت کاہونا چاہیے کہ اس نے اپنے شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وکی لیکس نے جو بھی کچھ شائع‏ کیا ہے اس میں نیا کچھ بھی نہیں ہے۔

یہ تنازعہ ایک ایسے وقت شروع ہوا ہے جب امریکہ عراق سے اپنے باقی پچاس ہزار فوجیوں کو دو ہزار گیارہ تک نکالنے کی کوشش میں ہے۔

وکی لیکس نے جو دستاویزات جاری کیے تھے ان سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی فوج نے عراقی حکام کے ہاتھوں عراقی شہریوں پر تشدد کو جانتے بوجھتے نذر انداز کیا۔

دستاویزات یہ بھی بتاتی ہیں کہ 2003ء میں عراق پر امریکی فوج کے حملے کے بعد امریکی فوج کی حفاظتی چوکیوں پر سینکڑوں شہریوں کو قتل کیا گیا اور یہ کہ امریکہ کے پاس عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کا ریکارڈ موجود تھا جس سے وہ انکار کرتا رہا ہے۔

خفیہ دستاویزات کے مطابق عراق میں جنگ کے دوران ایک لاکھ نو ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں چھیاسٹھ ہزار اکیاسی عام شہری تھے۔

اسی بارے میں