’ مزید وقت درکار ہے‘ اوباما

Image caption صدر اوباما پہلے امریکی صدر ہیں جو اس پروگرام میں شریک ہوئے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے امریکی ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کریں کیونکہ ملک میں اصلاحات کے جاری عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیےمزید وقت درکار ہے۔

صدر اوباما امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے صرف چھ روز قبل جان سٹیورٹ کے طنزیہ پروگرام میں شریک ہوئے اور لوگوں سے اپیل کی وہ ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت کریں۔

صدر اوباما پہلے موجودہ صدر ہیں جو اس پروگرام میں شریک ہوئے ہیں۔

صدر اوباما اس شو میں ایک ایسے وقت میں شریک ہوئے ہیں جب چھ دن کے بعد امریکہ میں وسط مدتی انتخاب ہونے جا رہے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ ریپبلیکن امیدوار زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے کانگریس پر کنٹرول حاصل کر لیں گے اور پھر صدر اوباما کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ صدر اوباما ریپبلیکن کی جیت کے امکانات کو کم کرنے کے لیے ایک سخت مہم چلا رہے ہیں۔

صدر اوباما نے انٹرویو میں کہا کہ ’ ہم نے ایک ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے جو لوگوں کی زندگیوں کو دن بہ دن بدل رہا ہے۔‘

پروگرام میں سٹیورٹ نے صدر اوباما کو چیلنج کیا کہ وہ جواب دیں کہ کیوں امید اور تبدیلی کے نام پر جیت کے دو سال گزرنے کے بعد ان کے ساتھی ڈیمو کریٹس سے’ محسوس ہوتا ہے کہ کہہ رہے ہیں کہ بے بی مہربانی کر کے ایک اور موقع دیا جائے۔‘

اس پر صدر اوباما نے جواب دیا کہ ’جب میں نے جیتنے کے بعد تبدیلی کا آغاز کیا تو اس وقت دیکھا کہ معیشت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، میرے تمام ساتھی سیاستدان میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ کیا جانتے ہیں؟ اس سے آپ اب لطف اندوز ہوں کیونکہ اب سے دو سال بعد ساتھی مایوسی کا شکار ہو جائیں گے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا۔‘

اس کے بعد صدر براک اوباما نے بے روزگاری کی بلند شرح اور مکانات کی مارکیٹ میں زوال کو مایوسی کی وجوہات قرار دیا۔

اس کے ساتھ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی بعض انتظامی کامیابیوں سے واقف نہیں ہیں۔

اس پر میزبان سٹیورٹ نے جواب دیا کہ ’ آپ نے جو کیا ہے ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے ہیں‘، مزید کہا کہ ’ کیا آپ ہمارے لیے ایک سرپرائز پارٹی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس میں ملازمتیں اور طبی سہولیات شامل ہیں۔‘

اس پر صدر براک اوباما نے جواب دیا کہ ڈیموکریٹس نےحکومتی حمایت سے بچوں کی صحت کی انشورنس اور کریڈٹ کارڈز میں نئے قواعد کا بل منظور کیا تھا۔‘

رپبلکنز نے یہ عرصہ ووٹرز پر مہم چلانے میں صرف کیا اور اس صورتحال کی وجہ سے ڈرامائی طور پر اوباما اور ڈیموکریٹس کی بڑی قانون سازی میں صلاحیت میں کمی ہوئی ہیں۔

جان سٹیورٹ کے ڈیلی شو کا مقصد دونوں جماعتوں کے سیاست دانوں کے ساتھ شرارت آمیز بات چیت کرنا ہے، لیکن اس پروگرام کے میزبان کا بائیں بازو طرف جھکاؤ ہوتا ہے اور شو کے زیادہ تر مواد میں ریپبلکن کے درمیان تعصب اور مکر نمایاں ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شو میں کے حاضرین بھی زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے انتخاب کے حوالے سے صدر اوباما کو امید ہو کہ اس پروگرام کے توسط سے گرم جوشی پیدا ہو۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان رابرٹ گبز نے بدھ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’اس شو کو دیکھنے والے نوجوانوں کی صورت میں آپ کو ایک حلقہ مل گیا ہے، اور یہ ایک اچھی جگہ ہے جس میں آپ ان تک پہنچ سکتے ہیں۔‘

’ صدر اوباما نے کبھی بھی ایسی جگہ پر جانے سے گھبرائے نہیں ہیں جہاں لوگ ان کی معلومات حاصل کر رہے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اپنا کیس بنائیں۔‘

اس سے پہلے صدر اوباما اس شو میں چار بار شرکت کر چکے ہیں، یہ شرکت دو ہزار آٹھ کی صدارتی مہم کے دوران اور امریکی سینیٹ میں اپنے ابتدائی دور کے دوران کی۔

اس کے علاوہ اس ہفتے کے اختتام پر جان سٹیورٹ اور ایک اور مزاحیہ پیش کار سٹیفن کولبرٹ واشنگٹن کے یو ایس نیشنل مال پر ایک جلوس نکالیں گے جس میں امید ہے کہ ایک بڑی تعداد میں آزاد خیال نوجوان شریک ہونگے۔

اسی دوران ملک بھر میں ایک تندو تیز مہم جاری ہے۔

کلوراڈو میں ڈیموکریٹ کے سینیٹر مچل بینٹ انتخاب جیتنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔اس سیٹ کے لیے انھیں دو ہزار آٹھ میں نامزد کیا گیا تھا۔انھوں نے اپنے حریف امیدوار ریپبلکن پارٹی کی ویڈیو کو زیر کر رہے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ چرچ اور ریاست میں سرکاری طور پر علیحدگی پر انھیں یقین نہیں ہے۔

امید ہے کہ مچل بینٹ اپنی مہم میں اس بیان سے فائدہ اٹھائیں گے کہ ریپبلکن سخت قدامت پسند ہیں۔

اسی بارے میں