آخری وقت اشاعت:  جمعـء 29 اکتوبر 2010 ,‭ 09:40 GMT 14:40 PST

انڈونیشیا:408 ہلاک، تین سو تاحال لاپتہ

پچانوے افراد کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا

انڈونیشیا میں پیر کو آنے والے سونامی کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد چار سو سے بڑھ گئی ہے جبکہ تین سو لاپتہ افراد کے زندہ بچ جانے کی امید بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔

یہ سونامی سات اعشاریہ سات شدت کے زیرِ سمندر زلزلے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ اس سونامی نے مغربی سوماٹرا کے کئی چھوٹے بڑے جزیروں میں تباہی مچائی ہے اور پگائی آئی لینڈز کے نام سے مشہور جزیروں کے ایک سلسلے پر قائم کم از کم دس دیہات غرق ہوگئے ہیں۔

کلِک سوماٹرا زلزلے میں درجنوں ہلاک

انڈونیشیائی امدادی ادارے کے افسر آگس پریانتو کے مطابق مرنے والوں کی تعداد چار سو آٹھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ تین سو تین افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ایک اور امدادی افسر آدی ایڈورڈ کا کہنا ہے کہ سونامی کی دس فٹ اونچی لہر یا تو ان افراد کو سمندر میں بہا لے گئی یا پھر وہ ریت میں دفن ہوگئے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے لاکھوں ڈالر مختص کیے ہیں تاہم امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مزید اقدامات درکار ہیں۔ امدادی تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ متاثرہ جزائر پر موجود افراد کو خوراک اور پناہ گاہوں کی فوری ضرورت ہے۔

علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے بھی امدادی کارروائیوں میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

سونامی سے ہونے والی تباہی کی تصویر واضح ہونے کے بعد آدی ایڈورڈ نے کہا انہیں مزید دو سو افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ خبر رساں ادارے ای ایف پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں خدشہ ہے کہ لاپتہ افراد میں سے دو تہائی ہلاک ہو چکے ہیں، وہ یا تو سمندر میں بہہ گئے یا ریت میں دب گئے‘۔

ہمیں خدشہ ہے کہ لاپتہ افراد میں سے دو تہائی ہلاک ہو چکے ہیں، وہ یا تو سمندر میں بہہ گئے یا ریت میں دب گئے۔

آدی ایڈورڈ

انڈونیشیا کے سرکاری خبررساں ادارے انتارا کے مطابق چار سو اڑسٹھ مکانات سمندری لہر کی زد میں آ کر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

سونامی کا نشانہ بننے والے ایک گاؤں سید گوگونگ کے سربراہ تسمین ساؤگو نے بی بی سی کی انڈونیشین سروس کو بتایا کہ ’ لاشیں دفنانے کے لیے کفن موجود نہیں، ہم نے پچانوے افراد کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اب بھی بہت سی لاشیں ناریل کے درختوں کے نیچے اور دیگر مقامات پر پڑی ہیں‘۔

ادھر انڈونیشیائی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیر کو آنے والا زلزلہ زمین سے بہت قریب واقع سمندری علاقے میں آیا تھا اور سونامی کے خطرے سے پیشگی آگاہی کے نظام کو کام کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ انڈونیشین وزارتِ خارجہ کے کسوما حبیر کے مطابق زلزلے کا مرکز منتاوائی جزائر سے صرف اسّی کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور سمندری لہر نظام کی جانب سے آگاہی دیے جانے سے پہلے ہی سطحِ زمین تک پہنچ گئی تھی۔

اس سے قبل حکام نے کہا تھا کہ سونامی کی پیشگی آگاہی کے نظام میں خرابی کی وجہ سے لوگوں کو سونامی کے خطرے سے بروقت مطلع نہیں کیا جا سکا تھا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔