عراق: خودکش حملے میں کئی ہلاک

Image caption گزشتہ چند سالوں کی نسبت اب عراق میں اس طرح کے بم حملوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ بغداد کے شمال میں واقع شیعہ قصبے بلدروز میں ہونے والے ایک خود کش بم حملے میں پچیس سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مبینہ خود کش بمبار نے ایک چائے خانے کو نشانہ بنایا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے شہر کے میئر کے حوالے سے کہا ہے کہ دھماکے کے وقت ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کیفے میں ڈومینو کھیل رہے تھے اور چائے پی رہے تھے۔

جس جگہ خودکش بم حملہ ہوا ہے اس جگہ پر کرد نژاد شیعہ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔

واقعے کے ایک عینی شاہد صادق عباس کا کہنا ہے کہ وہ کیفے کے قریب ہی موجود تھے کہ اس کے اندر ایک زوردار دھماکہ ہوا اور پورے علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔

’سکیورٹی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے اور لوگوں کو کیفے کے قریب جانے سے روکنے کے لیے ہوا میں گولیاں چلانا شروع کر دیں۔‘

یہ عراق میں گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے میں ہونے والا سب سے بڑا بم حملہ تھا۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میئور کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کی نسبت اب اس طرح کے بم حملوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے لیکن پھر بھی عراق میں ہر روز لوگ کہیں نہ کہیں تشدد کے واقعات کا نشانہ ضرور بنتے ہیں۔

نامہ نگار نے سکیورٹی فورسز کے حوالے سے کہا ہے کہ اب شدت پسندوں کے لیے دھماکہ خیز مواد حاصل کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے

اسی بارے میں