’نجی کنٹریکٹر نے اختیارات سے تجاوز کیا‘

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عسکری کنٹریکٹر نے افغانستان میں جنگجوؤں کو ہدف بنانے کے لیے خفیہ معلومات حاصل کرنے کی غرض سے اختیارات سے تجاوز کیا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق امریکی وزارت دفاع کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ عسکری کنٹریکٹر مائیکل فرلونگ نے، جو ایک ریٹائرڈ فوجی ہیں، معلومات حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی مخبروں کا نیٹ ورک قائم کیا۔

تاہم مائیکل فرلونگ کا کہنا ہے کہ وہ پینٹاگون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا مقابلہ کریں گے۔

اے پی نے یہ خبر پندرہ صفحاتی خفیہ رپورٹ کی بنا پر دی ہے جو خبر رساں ایجنسی کے پاس ہے۔

اس خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرلونگ نے اپنے پروگرام ’انفارمیشن آپریشنز کیپسٹون‘ کے لیے خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے ’ایگزیکٹو آرڈر کی خلاف ورزی‘ کی اور وزارت دفاع کی پالیسی کی بھی خلاف ورزی کی۔

پینٹاگون کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کی مذید جانچ کی جائے۔

اے پی کو دیے جانے والے انٹرویو میں فرلونگ نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ نہ تو پینٹاگون کی اس کمیٹی کے ممبران نے ان سے پوچھ گچھ کی اور نہ ہی رپورٹ ان کو بھیجی تاکہ وہ ان الزامات کا جواب دے سکیں۔

واضح رہے کہ فرلونگ نے پاکستان اور افغانستان میں طالبان کو ڈھونڈنے اور ہلاک کرنے کے لیے جاسوسی کا ایک نجی نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔

فرلونگ نے اُن نجی سکیورٹی کپمنیوں سے افراد کو اس پروگرام میں لگایا تھا جن کے عملے میں عموماً سی آئی اے اور خصوصی کمانڈوز کے سابق اہلکاروں شامل ہوتے ہیں۔

خفیہ امریکی فوجی آپریشنز کے لیے نجی ایجنسیوں کے اہلکاروں کا استعمال قانون اور اصول کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں