آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 30 اکتوبر 2010 ,‭ 16:11 GMT 21:11 PST

’پیکٹ سے برآمد ہونے والا قابل استعمال بم تھا‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

دبئی پولیس نے کہا ہے کہ دبئی ایئرپورٹ سے برآمد ہونے والے مشتبہ پیکٹ میں ایک قابلِ استعمال بم تھا۔ انسداد دہشتگردی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر القاعدہ تنظیم کی چھاپ محسوس ہوتی ہے۔

تفتیش کاروں نےکہا ہے کہ یمن سےمال بردار جہاز پر بھیجا جانے والے پیکٹ میں ایک کمپیوٹر پرنٹر کے کارٹرج میں دھماکہ خیز مواد بھرا گیا تھا اور وہ ایک الیکٹریکل سرکٹ سے جڑا ہوا تھا اور اس کے ساتھ موبائل فون کی ایک سم بھی لگی ہوئی تھی۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کو انتہائی ماہرانہ انداز میں پرنٹر کارٹیج میں بھراگیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی ساخت بلکل وہی ہےجو اس سے پہلے یمن سے تیار ہوکر نکلنے والے نائجبرین باشندے عمر فاروق عبدالمطلب کے انڈرویر میں نصب بم سے برآمد ہوا تھا۔

امریکی صدر براک اوباما کے انسداد دہشتگردی کے مشیر جان برینن نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس پیکٹ کی برآمدگی کے بعد دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنایا جا چکا ہے یا نہیں۔ انہوں نےکہا امریکہ اب بھی انتہائی الرٹ ہے۔

اس سے قبل جمعہ کے روز برطانیہ کے ایسٹ مِڈلینڈ ائیرپورٹ سے ایک مشتبہ پیکٹ ملا تھا جسے امریکہ بھیجا جا رہا تھا۔

برطانوی وزیر داخلہ ٹریسا مے نے کہا ہے کہ اس پیکٹ میں قابل استعمال بم تھا اور اگر وہ دوران پرواز پھٹ جاتا تو طیارہ تباہ ہو سکتا تھا۔

برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے یمن سے آنے والے ہر ایسے سامان کو روک دیا ہے جس کے ہمراہ اس کا مالک نہ ہو۔

برطانوی وزیر داخلہ کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دھماکے کا منصوبہ برطانوی حکومت کے ابتدائی اندازوں سے زیادہ گھناونا اور گھمبیر تھا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کے بارے میں سعودی عرب نے معلومات فراہم کی تھیں۔ برطانیہ کے روزنامہ ڈیلی ٹیلگراف نے خبر دی ہے کہ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سیکس کے ایک افسر کو اس حملے کی خبر ملی تھی۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے جمعہ کی رات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم ابھی تک تمام حقائق کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن اب تک ملنے والے شواہد سےیہ پتہ چلتا ہے کہ یہ مشتبہ پیکٹ یمن سے روانہ کیے گئے۔ انہوں نے کہا امریکہ جانتا ہے کہ جزیرہ نما عرب میں متحرک القاعدہ کے دہشتگرد امریکہ پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی میں لگے ہوئے ہیں۔

کارگو کمپنیوں فیڈایکس اور یوپی ایس نے یمن سے تمام مال کو اٹھانا فوری طور پر بند کر دیا ہے۔ان پیکٹوں کو امریکہ یہودیوں کی عبادت گاہ کے پتہ پر ارسال کیے تھے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ان کی یمن کے صدر علی عبداللہ صالح سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے دہشت گردی کے خطرے سے متعلق تحقیقات میں اپنے ملک کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یمن کے دارالحکومت ثنا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کہ وہاں ایک سکیورٹی کریک ڈاون شروع ہو چکا اور سکیورٹی ادارے ہر طرف گاڑیوں کی چیکنگ کرتے نظر آرہے ہیں۔

کارگو کمپنیوں فیڈایکس اور یوپی ایس نے یمن سے تمام گارکو کو اٹھانا فوری طور پر بند کر دیا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔