روس امریکہ کارروائی پر کرزئی کی تنقید

حامد کرزئی فائل فوٹو

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں منشیات کی لیبارٹریز کے خلاف نیٹو اور روس کی مشترکہ کارروائی پر شدید تنقید کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ کیا جانے والا آپریشن اُن کی حکومت کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہے اور یہ افغانستان کی خود مختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر کرزئی نے مطالبہ کیا کہ نیٹو حکام کو یہ وضاحت کرنی چاہیے انھوں نے روسی فوجوں کی مدد سے افغانستان کے اندر کیوں یہ کارروائی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئی بھی صورت حال افغان حکومت کی مرضی کے بغیر افغانستان کی سرزمین کے اندر اس طرح کی کارروائی کا جواز پیدا نہیں کرتی۔

کرزئی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے غیر مربوط آپریشن افغانستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں اور مستقبل میں ایسی کسی بھی کارروائی کا افغانستان سختی سے جواب دے گا۔

امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کے انسداد منشیات کے ادارے نے اس کارروائی کی نگرانی کی جبکہ اس میں نیٹو اور ڈرگ ایفورسمٹ ایجنسی کے اہلکاروں نے حصہ لیا اور انھیں روسی اہلکاروں کا تعاون بھی حاصل تھا۔

دوسری جانب روس اور امریکہ کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مشترکہ کارروائی میں چار لیبارٹریز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔

اس سے قبل روس کی انسدادِ منشیات کی ایجنسی کے سربراہ وکٹر ایونوف نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی سرحد کے قریب مارے گئے ان چھاپوں میں ایک ٹن سے زیادہ مقدار میں ہیروئن اور افیون قبضے میں لی گئی ہے۔

وکٹر ایونوف نے کہا کہ پکڑی گئی منشیات کی مالیت دو سو پچاس ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے اور خیال ہے کہ اسے وسطی ایشیا بھیجا جانا تھا۔

نامہ نگاروں کے مطابق اس طرح کا مشترکہ آپریشن پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔

ماضی میں روسی اہلکار افغانستان میں موجود اتحادی فوجیوں پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ منشیات کی پیداوار روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے اور اس کی وجہ سے روس کو اکیلے وہاں موجود دو اعشارہ پانچ ملین منشیات کے عادی افراد کی دیکھ بھال کرنا پڑ رہی ہے۔

ایوانوف نے کہا کہ کارروائی میں دونوں ممالک کے تقریباً ستر افراد نے حصہ لیا جس میں روس کے انسدادِ منشیات کے ایجنٹ شامل تھے اور ساتھ ساتھ فضا میں ہیلی کاپٹرز بھی۔

سنہ انیس سو نواسی میں افغانستان سے سابق سویت یونین کے انخلاء کے بعد سے افغانستان کے اندر روسی کی مداخلت ایک انتہائی نازک معاملہ رہا ہے۔

دنیا میں پیدا ہونے والی نوے فیصد پوست کی کاشت افغانستان میں ہوتی جو کہ ہیروئن بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن کے مطابق ننگر ہار میں امریکہ اور روس کا مشترکہ آپریشن افغانستان میں روس کے بڑھتے ہوئے کردار کی ایک نشانی ہے۔

اپنی سرزمین کو روس نے پہلے ہی افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی افواج کے لیے متبادل سپلائی روٹ بنانے کی اجازت دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں