’طالبان سے قصبے کا قبضہ واپس لے لیا‘

غزنی (فائل فوٹو)
Image caption ستمنر میں غزنی کے نائب گورنی پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا جس میں گورنر کے علاوہ ان کے بیٹے اور محافظ بھی ہلاک ہوئے

افغام حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کی رات کو طالبان نے صوبہ غزنی کے ضلع خوگیانی پر حملہ کیا اور اس علاقے پر قابض ہو گئے۔

دارالحکومت کابل سے جنوب مغرب میں واقع صوبے کے اس علاقے کا کنٹرول کئی گھنٹوں تک طالبان کے پاس رہا جس دوران انہوں نے کئی سرکاری عمارتوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

ضلع کے پولیس سربراہ محمد یاسین نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ طالبان نے سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کیا۔ پولیس سربراہ علاقے سے نکل کر قریبی غزنی شہر چلے گئے تھے تام بعد میں وہ وہاں سے لوٹ آئے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان جنگجوؤں کو چند گھنٹوں بعد علاقے سے نکال دیا گیا اور افغان پولیس نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعے کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔

تاہم طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے علاقے میں پولیس سےہتھیار کے علاوہ کئی گاڑیاں بھی چھین لی ہیں۔

گزشتہ چند ماہ میں طالبان اس طرح کے کئی حملے کیے ہیں۔ وہ کئی گھنٹوں تک ایک علاقے پر قابض رہتے ہیں جس دوران وہ سرکاری عمارتوں اور اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں اور مقامی لوگوں میں خوف و حراس کا پیدا کرتے ہیں جس کے بعد وہ واپس چلے جاتے ہیں۔

اس تازہ واقعے سے افغانستان کے دور دراز علاقوں میں سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال واضح ہوتی ہے۔

اسی بارے میں