پارسل بم:’ایک کا ہدف فرانسیسی صدر تھے‘

Image caption پیر کو پہلا پارسل بم اس وقت پھٹا جب کوریئر کپمنی کی ایک خاتون اہلکار نے پارسل کو مشتبہ سمجھ کر زمین پر پھینک دیا تھا

یونان میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو دارالحکومت ایتنھنز سے ملنے والے چار پارسل بموں کے وصول کنندگان میں سے ایک فرانس کے صدر نکولس سرکوزی تھے۔

ایک پارسل بم پر ایتھنز میں واقع میکسیکو کےسفارت کا پتہ درج تھا۔ یہ بم ایک نجی کوریئر کپمنی کے دفتر میں پھٹ گیا تھا۔ اس واقعے میں ایک شخص ممعولی زخمی ہوا ہے۔

دوسرے دو پارسل بموں پر بیلجیئم اور ڈچ سفارت خانوں کے پتے درج تھے۔

پارسل بم حملوں کے الزام میں بائیس اور چوبیس سالہ دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یونان میں ان دنوں حکومت اور پولیس پر حملے ہو رہے ہیں اور یہ حملے بائیں بازو کے گروپوں سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پیر کو ملنے والے پارسل بموں کا تعلق القاعدہ سے نہیں جوڑ رہے ہیں۔

پیر کو پہلا پارسل بم اس وقت پھٹا جب کوریئر کپمنی کی ایک خاتون اہلکار نے پارسل کو مشتبہ سمجھ کر زمین پر پھینک دیا تھا۔

ایک دوسرا پارسل جس پر ڈچ سفارت خانے کا پتہ درج تھا ایک دوسری کوریئر کپمنی کے دفتر سے بازیاب ہوا، اس پارسل میں موجود بم کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

جب پولیس پہنچی تو دو آدمیوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ویگ اور بلٹ پروف جیکٹس میں ملبوس تھے اور ان کے پاس دستی بم تھے ان کو بس سٹاپ سے گرفتار کر لیا گیا۔

اس موقع پر مزید دو پارسل بم برآمد ہوئے۔ ان میں سے ایک پر فرانسیسی صدر نکلولس صدر اور دوسرے پر بیلجیئم کے سفارت خانے کا پتہ درج تھا۔

بائیں بازو کے گروپوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے جون میں ایک پارسل بم کے ذریعے یونان کے انسداد دہشت گردی کے وزیر کے قریبی ساتھی کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں