انتخابات:’ صدر اوباما کی مشکلات کا پیش خیمہ‘

فائل فوٹو، امریکی انتخابات
Image caption خیال رہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے دو سال بعد وسط مدتی انتخابات ہوتے ہیں

امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے لیے وسط مدّتی انتخابات آج منگل کو ہو رہے ہیں۔

انتخابی ماہرین اور سیاسی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والوں کا یقین ہے کی ان انتخابات میں صدر براک اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے لیکن ان انتخابات کے بعد کم از کم ایوان زیریں میں ریپبلکن پارٹی کی جیت ہوگی۔

ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان کی سبھی چار سو پینتیس نشستوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں جب کہ ایوان بالاں یعنی سینیٹ کی سو سیٹوں میں سے سینتیس پر انتخابی معرکہ ہو گا۔

خیال رہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے دو سال بعد وسط مدتی انتخابات ہوتے ہیں۔

ریپبلیکن پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے انتالیس نشستوں کی ضرورت ہے جو سبھی ماہرین کے خیال میں پارٹی کو آسانی سے مل جائیں گی جبکہ سینیٹ کی سینتیس سیٹوں پر انتخابات ہو رہے ہیں لیکن ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے صرف دس سیٹیں درکار ہیں۔

Image caption صدر اوباما کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے

اگر سیاسی اور انتخابی ماہرین کی پیشن گوئی درست ثابت ہوئی جس کا پورا امکان ہے تو ڈیموکریٹک پارٹی کی شکست کی زمہ داری پوری طرح سے صدر براک اوباما پر عائد کی جائےگی۔ دو سال پہلے جب وہ صدر اوباما منتخب ہوئے تھے تو اس وقت ان کی مقبولیت کی ریٹنگ باسٹھ فیصد تھی لیکن اب یہ مقبولیت کم ہو کر سینتالیس فیصد پر آ گئی ہے۔ ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کی وجوہات میں بے روزگاری میں ریکارڈ اضافہ اور معاشی مشکلات کا جاری رہنا ہے۔

لیکن ان کی پالیسیاں بھی ریپبلیکن پارٹی کے حامیوں کی ناراضگی کا سبب ہیں۔ سرکاری اخراجات کے بڑھنے کی وجہ سے ملک بری طرح سے قرض تلے دب کر رہ گیا ہے اور دوسری وجہ ان کا سابقِ صدر بش کے دور اقتدار میں امیروں کو ٹیکس میں دی گئی رعایات کی مدّت کو بڑھانے سے انکار تھا۔

صدر اوباما کی پریشانیوں کا پتہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کی جن کمپنیوں کو ان کی انتظامیہ نے معاشی مشکلات سے نجات دلانے کے لیے اربوں ڈالر قرض دے تھے ان کمپنیوں نے بھی اس بار ریپبلیکن پارٹی کو چندہ دیا ہے۔

لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کی ڈیموکریٹک پارٹی اگر کانگریس میں اکثریت کھو دیتی ہے تو اس سے صدر اوباما کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟ سب سے پہلے تو یہ کی کانگریس سے بل پاس کروانے میں انھیں مشکلات کو سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد اپنی انتظامیہ میں نئے لوگوں کو لانے کے لیے درکار کانگریس کی منظوری ملنے میں پریشانی ہوگی اور اپنی نئی پالیسیوں کو منظور کروانے میں بھی انھیں ناکوں چنے چبانے پڑ سکتے ہیں۔

اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی اگر ان کی پارٹی کی شکست ہوئی تو کیا وہ دو ہزار بارہ کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ امیدوار ہونگے اور ہوئے تو انھیں ووٹ ملیں گے؟صدر اوباما کی ایک نظر امریکی تاریخ پر یقیناً ہوگی۔ بل کلنٹن اور دیگر کئی ایسے صدور کے پہلے صدارتی دور میں بھی کانگریس میں ان کی پارٹی کو وسط مدّتی انتخابات میں شکست ہوئی تھی لیکن وہ دوبارہ صدارتی الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اب سب کچھ اس بات پر منحصر کرے گا کہ صدر اوباما کس طرح سے ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کانگریس کو ساتھ لیکر چلتے ہیں اور ان کا پہلا امتحان نومبر کے دوسرے ہفتے میں ہوگا جب امیروں کے لیے انکم ٹیکس میں رعایات کی مدّت کو بڑھانے پر کانگریس میں بحث ہوگی۔

اگر انہوں نے اس کی مدّت نہیں بڑھائی تو ظاہر ہے ریپبلیکن اراکین کانگریس انھیں دوسرے معاملات میں پریشان کریں گے۔ اور اس طرح سے صدر اوباما کے لیے پریشانیاں مزید بڑھ جائیں گی جس سے ان کی مقبولت میں مزید کمی آئے گی۔ اور عین ممکن ہے کی وہ دوبارہ صدر بننے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار بھی نہ ہوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کی صدر اوباما تین نومبر کے بعد سے کس طرح کا رویہ اپناتے ہیں۔

اسی بارے میں