’صدر اوباما، رہنماؤں کو ملاقات کی دعوت‘

فائل فوٹو، صدر اوباما
Image caption ووٹرز نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ ہم سے چاہتے ہیں کہ معیشت اور نوکریوں پر توجہ دی جائے: صدر اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کانگریس میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک رہمناؤں کو ملاقات کے لیے وائٹ ہاوس آنے کی دعوت دی ہے۔

اٹھارہ نومبر کو ہونے والی ملاقات میں سینیٹ میں ریپبلیکن کے رہنما مچ میککونل، ایوان نمائندگان کی سیپکر نینسی پلوسی، سینیٹ میں اکثریتی رہنما ہیری رئیڈ اور ریپبلیکن پارٹی کے قائد ایوان نمائندگان جان بوہینر شامل ہونگے۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ یہ ایک طے شدہ ملاقات ہے اور صرف فوٹو سیشن نہیں ہوگا۔’ میں چاہتا ہوں کہ امریکی عوام کا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ہم حقیقت پر مبنی بات چیت کریں۔‘

صدر اوباما نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ آئندہ آنے والے مہینوں میں شدید اہم مسئلہ وائٹ ہاوس اور کانگریس کی لیڈر شپ کے درمیان کام کے اعتبار سے بہتر تعلقات استوار کرنے ہیں اور یہ ہونے والا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’ ووٹرز نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ ہم سے چاہتے ہیں کہ معیشت اور نوکریوں پر توجہ دی جائے۔‘

کانگریس کے نئے منتخب ہونے والے رہنما جنوری میں حلف اٹھائیں گے اور اس سے پہلے ہونے والے کانگریس کے اجلاسوں کو ’ لیم ڈک‘ محدود اختیارات کے سیشن کہا جاتا ہے۔

صدر براک اوباما اہم معاملات کا حل چاہتے ہیں۔

اس ملاقات کے ایجنڈے میں اقتصادی اقدامات، ٹیکس کٹوٹیاں، بے روزگاروں کے لیے فوائد اور جوہری ہتھیاروں کے معاہدے شامل ہو سکتے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات میں صدر اوباما کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ایوان نمائدگان پر اس کا کنڑول ختم ہو گیا ہے جب کہ سینیٹ میں بھی اس کی اکثریت کم ہوئی ہے۔

اسی بارے میں